بحرین میں شیعہ آبادی کے خلاف کارروائیوں میں تیزی، علاقائی کشیدگی سے تعلق: بحرینی صحافی عبداللہ البحرانی
بحرین میں شیعہ آبادی کے خلاف کارروائیوں میں تیزی، علاقائی کشیدگی سے تعلق: بحرینی صحافی عبداللہ البحرانی
بحرینی مصنف اور صحافی عبداللہ البحرانی نے "مرآۃ البحرین” میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ بحرین میں شیعہ آبادی کے خلاف اقدامات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان اقدامات میں گرفتاریاں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی آزادیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔
مضمون کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرینی وزارت داخلہ نے ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے 41 افراد کو گرفتار کیا۔ ان پر ایران کے جوابی حملے کی حمایت کا الزام تھا۔ اسی دوران بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے شہریت کو "عہد و پیمان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی خلاف ورزی پر شہریت منسوخ ہو سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد 69 افراد کی شہریت منسوخ کی گئی اور بعض کو عمر قید سمیت دیگر سزائیں سنائی گئیں۔
انسانی حقوق تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شیعہ مذہبی سرگرمیوں پر پابندیوں پر تشویش ظاہر کی۔ رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں مذہبی علامات ہٹائی گئیں اور عزاداری کے اجتماعات میں شریک افراد کو طلب یا گرفتار کیا گیا۔
عبداللہ البحرانی کے مطابق بعض تجزیہ کار ان اقدامات کو خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی، اسرائیل سے تعلقات کی بحالی اور ایران مخالف سکیورٹی حکمت عملی سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری بیانیہ اب بعض مذہبی و فکری رجحانات کو بھی سکیورٹی خطرہ قرار دے رہا ہے۔
مضمون کے اختتام پر انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ من مانی گرفتاریاں اور شہریت منسوخی کے فیصلے بند کیے جائیں، مذہبی آزادیوں کا احترام کیا جائے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کی پابندی ہو اور تمام طبقات کی شمولیت سے قومی مکالمہ شروع کیا جائے۔




