ایرانایشیاءخبریںدنیا

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد جنگ؛ کوئی طاقت مکمل فاتح نہ بن سکی اور خطہ نازک توازن کا شکار ہو گیا

تجزیاتی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی جھڑپوں اور کشیدگی، بالخصوص ایران سے متعلق جنگ، کا نتیجہ کسی ایک فریق کی واضح فتح کی صورت میں سامنے نہیں آیا بلکہ اس نے پورے خطہ کو ایک ایسے مرحلے میں داخل کر دیا ہے جہاں نازک توازن، معاشی تھکن اور تزویراتی بے یقینی غالب ہے۔

ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے ملاحظہ کرتے ہیں:

اگرچہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرقِ وسطیٰ وسیع پیمانے پر فوجی تناؤ اور جھڑپوں کی لپیٹ میں رہا، تاہم بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان بحرانوں کا نتیجہ کسی نئے علاقائی نظام کے قیام کی صورت میں نہیں نکلا، بلکہ ایک ایسی فرسائشی کیفیت پیدا ہوئی ہے جس میں تمام فریقوں نے بھاری قیمت ادا کی ہے اور کوئی بھی قوت فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کر سکی۔

رسالہ "دی نیشنل انٹرسٹ” میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، سال 2026 میں ہونے والی فوجی کشیدگی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اُن تزویراتی اہداف کو حاصل نہیں کر سکی جن کا مقصد خطہ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن نے فوجی کارروائی کے ابتدائی چند گھنٹوں ہی میں اربوں ڈالر خرچ کیے، جبکہ مختصر مدت میں مجموعی اخراجات دسیوں ارب ڈالر تک جا پہنچے۔

اس جنگ کے معاشی اثرات خطہ سے باہر بھی پھیل گئے اور دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد اس سے متاثر ہوئے۔

اس تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کے ایک حصہ کو کمزور کرنے اور اہم آبی گزرگاہوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے میں کامیاب رہا، لیکن وہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی نیا اور پائیدار نظام قائم کرنے میں ناکام رہا۔

دوسری جانب ایران، اگرچہ اپنے سیاسی ڈھانچے اور علاقائی کردار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا، تاہم فوجی اور معاشی دباؤ کے نتیجے میں اسے اقتصادی، سماجی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں متعدد مشکلات اور محدودیتوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اس کی ترقیاتی اور علاقائی صلاحیتوں کا ایک حصہ متاثر ہوا۔

اسی دوران "مڈل ایسٹ واچ” میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حالیہ جنگ کسی فریق کی فتح نہیں بلکہ بین الاقوامی نظام میں نقصانات کی نئی تقسیم ثابت ہوئی ہے۔

اس تجزیے کے مطابق، یورپ کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سب سے زیادہ معاشی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ چین نے پیدا ہونے والے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں اپنے معاشی اثر و رسوخ کو مزید وسعت دی۔

رپورٹس میں بحران کے عالمی اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارتی راستوں میں رکاوٹوں نے دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ اور معاشی بے یقینی میں اضافہ کیا ہے۔

اندازوں کے مطابق، مختلف ممالک میں کروڑوں افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں۔

ان تمام تجزیات کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ امریکہ، نہ اسرائیل اور نہ ہی ایران کوئی تزویراتی فتح حاصل کر سکا۔

جو چیز باقی رہ گئی ہے وہ طاقتوں کی باہمی فرسائش اور ایک ایسے نظام کا قیام ہے جس میں کوئی بھی فریق بحران کا فیصلہ کن خاتمہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

اسی صورتِ حال کو مشرقِ وسطیٰ میں "نازک توازن کے دور” (Era of Fragile Balance) کے آغاز سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button