
13 ذی الحجہ 1338 ہجری قمری ایک ایسے مجاہد فقیہ اور بیدارگر مرجعِ دین کی رحلت کی یاد دلاتا ہے جن کا نام عراق کی عزت اور مسلم اقوام کی استعماری قوتوں کے خلاف مزاحمت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ، جو "میرزائے شیرازی ثانی” کے نام سے مشہور ہیں، 1920ء میں عراق کی عظیم عوامی تحریک "ثورۃ العشرین” کے روحانی رہنما تھے۔
اس دور میں جب پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانوی استعمار عراق پر اپنی سیاسی اور ثقافتی بالادستی مسلط کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مرجعیتِ شیعہ ملت کی پناہ گاہ بن کر سامنے آئی۔ میرزائے شیرازی ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے شجاعانہ فتویٰ نے عراق کے قبائل، علماء اور مختلف شہروں کے عوام میں مزاحمت کی روح پھونک دی۔
اگرچہ یہ تحریک بھاری انسانی اور مالی قربانیوں کے ساتھ ہمراہ تھی، لیکن اس نے عراق کے سیاسی شعور کو بیدار کیا اور قومی شناخت و استقلال کے مطالبے کی راہ ہموار کی۔
ثورۃ العشرین نے ثابت کر دیا کہ دینی ایمان جب بصیرت اور مرجعیت کی قیادت کے ساتھ متحد ہو جائے تو وہ بڑی سے بڑی استعماری طاقت کے مقابلے میں ڈٹ سکتا ہے۔
میرزائے شیرازی ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا یوم رحلت محض ایک ربانی عالم کی یاد نہیں، بلکہ اس مکتبِ فکر کی تجدیدِ عہد ہے جو عزت، آزادی اور امتِ اسلامی کے وقار کے دفاع کو ایک الٰہی فریضہ سمجھتا ہے۔
بالآخر آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ 13 ذی الحجہ 1338 ہجری کو نجف اشرف میں رحلت فرما گئے۔ آپ کا جسدِ خاکی کربلائے معلیٰ میں روضۂ مبارک حضرت امام حسین علیہ السلام کے جوار میں سپردِ خاک کیا گیا۔
مرجعِ عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دامت برکاتہ نے مرحوم میرزائے شیرازی ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کی عظمت کے بارے میں فرمایا ہے: "تقریباً سو سال قبل دینی پیشوا آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد تقی شیرازی قدس سرہ نے اپنے اہم فتویٰ کے ذریعہ عراق سے انگریز استعمار اور قابض قوتوں کو نکال باہر کرنے کا بیج بویا۔ اس زمانے میں استعمارِ پیر دھاندلی اور نام نہاد انتخابات کے ذریعہ عراق پر اپنی گرفت مضبوط کرنا اور مسلمانوں پر حکومت کرنا چاہتا تھا، لہٰذا میرزائے شیرازی حاج شیخ محمد تقی قدس سرہ نے فتویٰ دیا کہ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم کو حکومت کے لئے منتخب کرے۔ بالآخر میرزائے شیرازی ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے اس فیصلہ کن فتویٰ کے نتیجے میں انگریز پسپائی پر مجبور ہو گئے اور جن امیدوں سے انہوں نے دل لگا رکھا تھا وہ سب خاک میں مل گئیں۔”




