
سعودی عرب میں بچوں کی صورتحال پر کی گئی ایک وسیع تحقیق نے ذہنی اذیت، تشدد، غنڈہ گردی اور خاندانی غفلت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مسائل مستقبل میں اس ملک کی نئی نسل کے لئے سنگین سماجی اور نفسیاتی نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
ہمارے ساتھی رپورٹر نے اس موضوع پر ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے اسے ساتھ دیکھتے ہیں:
سعودی عرب میں بچوں کی صورتحال سے متعلق نئی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں طلبہ مختلف قسم کی ذہنی، نفسیاتی اور سماجی اذیتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان رپورٹس کے مطابق خاندان اپنے بچوں کی ذہنی اور سماجی سلامتی کے حوالے سے، خصوصاً اسکولوں اور سوشل میڈیا کی فضا میں، شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
میڈیا ادارہ “اخبار 24” کے مطابق “کنگ خالد فاؤنڈیشن” کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب کے بچے پانچ بڑی اقسام کے آزار کا شکار ہیں۔ ذہنی اذیت 65 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ تشدد کا مشاہدہ 64 فیصد، خاندانی غفلت 53 فیصد، جسمانی تشدد 50 فیصد اور جنسی زیادتی 10 فیصد رپورٹ کی گئی ہے۔
اسی تحقیق کے مطابق 52 فیصد والدین اپنے بچوں کے اسکولوں میں غنڈہ گردی اور ہراسانی کا شکار ہونے پر فکر مند ہیں۔
“کنگ خالد فاؤنڈیشن” کی تفصیلی رپورٹ بعنوان “سعودیوں کی آئندہ نسل؛ سعودی عرب میں بچپن” میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں بچوں کا بچپن یکساں نہیں ہے، بلکہ خاندانی ماحول، تربیتی انداز اور سماجی حالات بچوں کی ذہنی و اخلاقی صحت پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔
18 شہروں اور مختلف علاقوں میں کی گئی اس تحقیق میں والدین کی تربیتی مہارتوں کی کمزوری، ڈیجیٹل لت، الیکٹرانک سگریٹ، بچوں میں موٹاپا اور خاندانی نظام کے بکھراؤ جیسے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اس تحقیق کے مطابق بہت سے بچے اور حتیٰ کہ بعض والدین بھی غنڈہ گردی اور دھونس جمانے والے رویّوں کو محض “مذاق” یا “شرارت” سمجھتے ہیں، جبکہ ماہرین کے نزدیک یہ رویّے بچوں کی شخصیت اور مستقبل پر گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غنڈہ گردی صرف اسکول تک محدود نہیں بلکہ گھروں اور سوشل میڈیا میں بھی عام ہو چکی ہے۔
کنگ خالد فاؤنڈیشن کی اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ بچپن میں تشدد اور آزار کا تجربہ انسان کو بڑے ہو کر ڈپریشن، بے چینی، خطرناک رویّوں، تمباکو نوشی اور حتیٰ کہ گھریلو تشدد کی طرف مائل کر سکتا ہے۔
تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں تقریباً 80 فیصد بالغ افراد اپنی بچپن کی زندگی میں کم از کم ایک سخت یا تکلیف دہ تجربے سے گزر چکے ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر ان مسائل کے تدارک کے لئے چند تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں، جن میں خاندانی نگرانی میں اضافہ، والدین کو تربیتی مہارتوں کی تعلیم، الیکٹرانک سگریٹ کی فروخت پر پابندی یا محدودیت، مشاورتی خدمات کو مضبوط بنانا اور بچوں کی ذہنی صحت کے لیے مزید حمایت فراہم کرنا شامل ہے۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان انتباہات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے سعودی معاشرے کے مستقبل پر وسیع اور گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




