اسلامی دنیا

18 صفر؛ یوم وفات علامہ میر حامد حسین موسوی ہندی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

کتابیں بھی کبھی زندہ ہوتی ہیں۔ وہ سانس لیتی ہیں، بولتی ہیں، سوالوں کا جواب دیتی ہیں، شبہات کے اندھیروں میں چراغ روشن کرتی ہیں اور صدیوں کے فاصلے طے کرکے اپنے مولف کی آواز آنے والی نسلوں تک پہنچاتی ہیں۔ ایسی کتابیں وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں، بلکہ ہر نئے عہد میں نئی زندگی پاتی ہیں۔

"عبقات الانوار” بھی ایسی ہی ایک زندہ کتاب ہے، اور اس کے مولف علامہ سید میر حامد حسین موسوی ہندی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ان معدودے چند نفوس میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو صفحات میں اس طرح منتقل کیا کہ آج بھی ان کی تحریر سے اخلاص کی خوشبو، تحقیق کا وقار اور عشقِ اہلِ بیت علیہم السلام کی حرارت محسوس کی جا سکتی ہے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کی فضا میں استعمار کی سیاست صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کر رہی تھی بلکہ ذہنوں کو بھی تقسیم کر رہی تھی۔ اختلافات کو ہوا دی جا رہی تھی، تاریخ کو تعصب کی عینک سے دیکھا جا رہا تھا اور اہلِ بیت علیہم السلام کے فضائل پر اعتراضات کی گرد ڈالی جا رہی تھی۔ ایسے میں ایک مردِ خدا نے شور کا جواب شور سے نہیں دیا، بلکہ خاموشی کو مطالعے میں، تنہائی کو تحقیق میں اور زندگی کو قلم کی امانت میں بدل دیا۔

انہوں نے جان لیا تھا کہ دلیل کی قوت وقتی نعروں سے کہیں زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ اسی لئے انہوں نے اپنی عمر کے شب و روز اس عظیم علمی سفر پر نثار کر دیے جس کا نام "عبقات الانوار” ہے۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک فکر، ایک استدلال اور ایک عہد کی علمی امانت ہے، جس کے ہر صفحے پر مصنف کے صبر، دیانت اور عشق کی مہر ثبت ہے۔

کہتے ہیں کہ بعض لوگ اپنی زبان سے کم اور اپنی خاموشی سے زیادہ بولتے ہیں۔ علامہ میر حامد حسین موسوی ہندی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی انہی میں سے تھے۔ ان کی خاموش راتیں، کتابوں کے درمیان گزرتے ہوئے وہ طویل اوقات، سینکڑوں مصادر کی جستجو، حوالوں کی تلاش اور حقیقت کی کھوج… یہی ان کی گفتگو تھی۔ وہ منبروں سے کم اور اپنے قلم سے زیادہ بولتے تھے، اور ان کے قلم کی بازگشت آج بھی دنیا کے علمی مراکز میں سنائی دیتی ہے۔

یہ تاریخ کا عجیب انصاف ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی شہرت کے لئے نہیں گزاری، شہرت نے انہی کے دروازے پر دستک دی۔ جنہوں نے اپنی عمر ناموری کے لئے نہیں، حق کے لئے وقف کی، ان کا نام خود حق کی دلیل بن گیا۔ علامہ میر حامد حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی انہی عظیم ہستیوں میں شامل ہیں جن کی پہچان ان کی ذات نہیں، ان کا علمی کردار ہے۔

18 صفر صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چراغ بجھ بھی جائیں تو ان کی روشنی باقی رہتی ہے۔ جسم مٹی میں اتر جاتے ہیں مگر اخلاص سے لکھی ہوئی سطریں زمانے کے حافظے سے کبھی محو نہیں ہوتیں۔ لکھنؤ کی سرزمین نے اس روز ایک عظیم فرزند کو سپردِ خاک کیا، لیکن اسی دن علم کی دنیا کو ایک ایسی دائمی میراث مل گئی جسے وقت کبھی فرسودہ نہیں کر سکے گا۔

آج جب معلومات کی فراوانی ہے مگر تحقیق کی کمی، آوازیں بہت ہیں مگر مطالعہ کم، اختلاف زیادہ ہے مگر تحمل کم، ایسے دور میں علامہ میر حامد حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی ایک پیغام بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ علم کا وقار شور میں نہیں، سکوت میں جنم لیتا ہے؛ تحقیق جلد بازی سے نہیں، عمر بھر کی ریاضت سے پیدا ہوتی ہے؛ اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت صرف جذبات کا نام نہیں، بلکہ علم، استدلال، اخلاق اور کردار کی ذمہ داری بھی ہے۔

علامہ میر حامد حسین موسوی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اس دنیا سے رخصت ضرور ہوئے، مگر ان کا قلم آج بھی زندہ ہے۔ "عبقات الانوار” کے اوراق پلٹتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک صدی پہلے کا وہ مردِ وفا آج بھی اپنے قاری سے کہہ رہا ہو: حق کو پہچاننا ہو تو تعصب سے نہیں، تحقیق سے آؤ؛ اور اگر اہلِ بیتِ رسول علیہم السلام کی معرفت حاصل کرنی ہو تو خواہشات سے نہیں، علم کی روشنی میں سفر کرو۔

سلام ہو اس مردِ علم پر، جس نے اپنے عہد کی تاریکیوں میں چراغ جلایا، اور ایسا جلایا کہ اس کی روشنی آج بھی صدیوں کے فاصلے طے کرکے اہلِ انصاف کے دلوں کو منور کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button