افریقہخبریں

کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ پر عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ؛ جنگ اور بدامنی بیماری پر قابو پانے میں رکاوٹ بن گئی

مشرقی کانگو میں جاری جھڑپوں اور بدامنی نے ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ امدادی سرگرمیوں اور بیماری پر قابو پانے کی کوششوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مشتبہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ طبی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک محفوظ رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ مشرقی کانگو “بیماری اور جنگ کے تباہ کن تصادم” کا منظر پیش کر رہا ہے اور صوبہ ایتوری میں ایبولا کا پھیلاؤ طبی اقدامات کی رفتار سے آگے بڑھ چکا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ بمباری اور بدامنی کے ماحول میں عوام اور طبی اداروں کے درمیان اعتماد قائم کرنا اور مریضوں کو الگ رکھنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل اس بیماری کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اب تک کم از کم 220 مشتبہ اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

امدادی کارکن خراب سڑکوں اور وسیع بدامنی کے باعث طبی سامان کی منتقلی اور مریضوں کی دیکھ بھال میں شدید دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ اس بیماری پر قابو پانے کی کوششیں بدستور جاری ہیں اور علاج و صحت کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے لئے ایک خصوصی وفد کانگو روانہ کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button