اسلامی دنیاخبریںدنیا

غزہ کے مسلمان مسلسل تیسرے سال حج سے محروم

غزہ کے فلسطینی مسلمان مسلسل تیسرے سال بھی حج کی سعادت سے محروم رہے، کیوں کہ سرحدی پابندیاں اس مقدس سفر کی راہ میں حائل ہیں۔

غزہ کے باشندوں کو ایک بار پھر اس دلسوز صورتِ حال کا سامنا ہے کہ وہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکنِ اعظم — فریضۂ حج — کی ادائیگی کے لیے سرزمینِ حجاز نہیں جا سکتے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے غزہ کی گذرگاہوں پر مسلسل قبضے اور بندش کے باعث عام سفر تقریباً ناممکن ہو گیا ہے — چاہے وہ مذہبی فریضے کی ادائیگی ہو، تعلیمی ضرورت ہو، یا روزگار کا معاملہ۔ اگرچہ رفح گذرگاہ فروری میں جزوی طور پر کھلی، تاہم گزرنے کی اجازت زیادہ تر انہی مریضوں کو ملی جنھیں بیرونِ ملک علاج کی ضرورت تھی۔

غزہ کی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں میں رفح گذرگاہ کی بندش کے سبب دس ہزار سے زائد شہریوں کو حج سے محروم رہنا پڑا۔ وزارت کے مطابق کم از کم اکہتر ایسے افراد بھی جاں بحق ہو گئے جن کے حج کے سرکاری اجازت نامے منظور ہو چکے تھے، مگر وہ اس فریضے کی ادائیگی سے پہلے ہی جنگ کی نذر ہو گئے۔

اس بحران نے غزہ کے حج و عمرہ سفر کے شعبے کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس شعبے کی تمام اٹھتر لائسنس یافتہ ٹریول کمپنیاں بیٹھ گئی ہیں، اور ان کے بیشتر دفاتر کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ مالی نقصانات کا اندازہ چالیس لاکھ ڈالر سے زائد لگایا گیا، جب کہ بیرونی ایجنٹوں کے پاس منجمد رقوم کی مد میں مزید کروڑوں کا نقصان ہوا۔

جنگ سے پہلے غزہ کا حج و عمرہ شعبہ سالانہ کم از کم ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کی آمدنی مقامی معیشت میں شامل کرتا تھا اور پندرہ سو سے زائد افراد کو براہِ راست و بالواسطہ روزگار فراہم کرتا تھا۔ اس شعبے کے انہدام نے غزہ کے پہلے سے ابتر معاشی و انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

غزہ کی وزارتِ اوقاف کے حکام کا کہنا ہے کہ گذرگاہوں کے کھلنے کی یقین دہانی کے بغیر وہ حج کا انتظام نہیں کر سکتے، اس لیے کہ حج کے لیے رہائش، آمد و رفت اور سفری انتظامات کی قبل از وقت تیاری ناگزیر ہوتی ہے۔ وزارت نے عالمی برادری، سعودی عرب اور مصر سے اپیل کی کہ وہ مداخلت کریں اور اس مذہبی فریضے کو سیاسی حسابات سے الگ رکھیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button