یورپ

ترکی میں حزبِ جمہوری خلق کے مرکزی دفتر پر پولیس کا دھاوا، پارٹی قیادت سے متعلق عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی بحران شدید

ترکی میں حزبِ جمہوری خلق کے مرکزی دفتر پر پولیس کا دھاوا، پارٹی قیادت سے متعلق عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی بحران شدید

عدالتِ تجدیدِ نظر کے فیصلے اور مقامی حکام کے حکم پر ترک پولیس نے حزبِ جمہوری خلق کے مرکزی دفتر میں داخل ہو کر پارٹی کی برطرف قیادت کو عمارت سے باہر نکال دیا۔

جس کے بعد انقرہ میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ہمارے ساتھی رپورٹر نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:

ترکی میں سیاسی تناؤ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔

دارالحکومت انقرہ میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت حزبِ جمہوری خلق کی قیادت سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے دوران سکیورٹی فورسز اور پارٹی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس سے ملک کی سیاسی فضا مزید کشیدہ ہو گئی۔

خبر رساں ایجنسی رویٹرز کے مطابق، ترکی کی انسدادِ فسادات پولیس نے اتوار کے روز مقامی حکام کے حکم پر انقرہ میں قائم حزبِ جمہوری خلق کے مرکزی دفتر میں داخل ہو کر برطرف شدہ رہنماؤں کو عمارت سے باہر نکال دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی کی عدالتِ تجدیدِ نظر نے پارٹی کے 2023 کے کانگریس نتائج کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پارٹی کی قیادت دوبارہ کمال قلیچدار اوغلو کے حوالے کر دی تھی۔

رویٹرز کے مطابق، سکیورٹی فورسز کے داخلے کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا، جبکہ عمارت کے اندر شدید کشیدگی اور دھکم پیل دیکھنے میں آئی۔

اسی دوران پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے عمارت کے باہر احتجاج کرتے ہوئے عدالتی فیصلے پر اعتراض کیا۔

برطرف شدہ رہنما اوزگور اوزل نے اس اقدام کو “عدالتی بغاوت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی قانونی احتجاج اور عوامی میدان میں اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔

انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں اور عوامی مقامات پر موجود رہیں۔

رپورٹس کے مطابق بعض سیاسی تجزیہ کار اس معاملے کو ترکی میں جمہوری ڈھانچے اور سیاسی طاقت کے توازن کے لئے ایک اہم امتحان قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بحران مستقبل کے انتخابی مقابلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ترک میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ پارٹی کے بعض اراکین اور عہدیدار بحران کے خاتمے کے لیے جلد نئے پارٹی کنونشن کے انعقاد کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ سابق قیادت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کے انعقاد کا وقت مناسب حالات میں طے کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب ترک حکومت نے عدالتی عمل میں سیاسی مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدلیہ کی آزادی پر زور دیا ہے۔

تاہم بعض سیاسی کارکنوں اور بین الاقوامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو مستقبل کے انتخابی ماحول میں ترکی کو مزید سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button