ایران: تہران میں ورچوئل کتاب نمائش کا انعقاد

ایران کی اشاعتی صنعت پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، کتابوں کی تیاری کے اخراجات میں اضافے، قارئین کی قوتِ خرید میں کمی اور مسلسل انٹرنیٹ پابندیوں کے ساتھ ساتھ تہران کی ساتویں ورچوئل کتاب نمائش کا آغاز ہو گیا ہے۔
ایسا پروگرام جسے ناشرین کتابی بازار میں گہرے بحران اور ثقافتی سرگرمیوں کی مسلسل کمزور ہوتی صلاحیت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
آئیے اس موضوع پر ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں:
تہران کی ساتویں ورچوئل کتاب نمائش 26 اردی بہشت سے 2 خرداد تک جاری رہے گی، اور منتظمین کے مطابق اس میں 2296 سے زائد مقامی ناشرین نے رجسٹریشن کرائی ہے جبکہ کتابوں کا بڑا حصہ سرکاری آن لائن نظام میں اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔
یہ پروگرام ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب ایران کی اشاعتی صنعت کئی بحرانوں، جیسے کاغذ کی مہنگائی، پیداواری اخراجات میں اضافہ، فروخت میں کمی اور انٹرنیٹ کی خرابیوں سے پیدا ہونے والی مواصلاتی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔
«ریڈیو فردا» کی رپورٹ کے مطابق، نمائش کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ خریداروں کی حمایت کے لیے تمام کتابیں 15 فیصد رعایت کے ساتھ پیش کی جائیں گی، نیز ہر خریدار کے لیے ایک لاکھ تومان کا خریداری کوپن بھی رکھا گیا ہے تاکہ خریداری کے اخراجات میں کچھ کمی لائی جا سکے۔
تاہم، اشاعتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ سہولیات کتابی بازار کے بنیادی اور ساختی دباؤ کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔
اسی سلسلے میں «انڈیپنڈنٹ فارسی» نے اپنی ایک رپورٹ میں زور دیا ہے کہ کتاب نمائش کو ورچوئل انداز میں منعقد کرنے کا فیصلہ ترقیاتی انتخاب سے زیادہ اشاعتی صنعت میں پھیلے ہوئے معاشی بحران اور ناشرین کی فزیکل تقریبات میں شرکت کی کمزور ہوتی استطاعت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
اس رپورٹ میں عوام کی قوتِ خرید میں کمی اور کتابوں کی طلب میں مسلسل گراوٹ کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بعض ناشرین نے بتایا ہے کہ انٹرنیٹ پابندیوں نے ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر براہِ راست منفی اثر ڈالا ہے، اور ملک کے اندر و بیرونِ ملک مصنفین اور مترجمین کے ساتھ ان کے روابط شدید متاثر ہوئے ہیں۔
بعض ناشرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہی حالات کے باعث ان کی اشاعتی سرگرمیاں نیم تعطیل کا شکار ہو چکی ہیں۔
ایسے حالات میں ثقافتی امور کے بعض تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی تو اشاعتی ڈھانچہ مزید سرکاری امداد پر انحصار کرنے لگے گا اور ناشرین کی معاشی خودمختاری مزید کمزور ہو جائے گی۔
ثقافتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان کے تسلسل سے نہ صرف ناشرین کو معاشی نقصان پہنچے گا بلکہ طویل مدت میں مطالعے کی شرح اور معاشرے کی ثقافتی صورتِ حال پر بھی سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




