اسلامی دنیاخبریں

سال ۲۰۲۶ کے لیے روس کا شہر قازان عالمِ اسلام کا ثقافتی دارالحکومت منتخب

اسلامی ممالک کے وزرائے ثقافت نے شہر قازان کو سال ۲۰۲۶ کے لیے عالمِ اسلام کا ثقافتی دارالحکومت منتخب کرتے ہوئے، اسلامی علوم کے فروغ اور عالمِ اسلام و روس کے درمیان ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں اس شہر کے تاریخی اور تہذیبی کردار پر زور دیا۔

اس سلسلے میں آپ کی توجہ اپنے ساتھی کی رپورٹ کی جانب مبذول کراتے ہیں:

ایک ثقافتی فیصلے میں جس کی بین الاقوامی سطح پر بازگشت سنائی دی، روس کے شہر قازان کو سال ۲۰۲۶ کے لیے عالمِ اسلام کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا۔

یہ انتخاب اسلامی ممالک کے وزرائے ثقافت کی جانب سے عمل میں آیا، جو اسلامی علوم اور اسلامی ورثے کے میدان میں اس شہر کے تاریخی کردار کی جانب دوبارہ توجہ کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اناتولی کے مطابق، اس انتخاب کو روس میں اسلام کی تاریخی جڑوں اور عالمِ اسلام کے ساتھ ثقافتی تعلقات قائم کرنے میں اس ملک کے تہذیبی مقام کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قازان تاریخ کے مختلف ادوار میں یوریشیا کے خطے میں ثقافتی اور علمی روابط کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔

شہر قازان قدیم زمانے سے روس میں اسلامی علوم کے نمایاں مراکز میں شمار ہوتا رہا ہے اور اس نے خطے میں فکری و تعلیمی تحریکوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ شہر مختلف تاریخی ادوار میں علمی و دینی مراکز کی توجہ کا مرکز بھی رہا ہے اور اسلامی مخطوطاتی ورثے کے تحفظ میں اس کا نمایاں حصہ رہا ہے۔

اناتولی کی رپورٹ کے مطابق، قازان ان شہروں میں شامل ہے جہاں روس میں قرآنِ کریم کے بعض قدیم ترین مطبوعہ نسخے شائع ہوئے، اور اسی وجہ سے اس شہر کو روس کی ثقافتی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔

اسی طرح تاتار قوم کی کئی علمی اور ثقافتی شخصیات بھی اسی شہر سے تعلق رکھتی ہیں، جنہوں نے دینی اور ثقافتی افکار کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سال ۲۰۲۶ میں قازان کو عالمِ اسلام کا ثقافتی دارالحکومت منتخب کیے جانے سے ثقافتی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ اس خطے میں دینی اور علمی سیاحت کو بھی ترقی مل سکتی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ مشترکہ ثقافتی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے اس شہر کے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے نئے مواقع فراہم ہوں گے۔

ثقافتی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ انتخاب مختلف اقوام کے درمیان باہمی شناخت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور مختلف ممالک کے ثقافتی اداروں کے درمیان وسیع تر مکالمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button