ایران

اہلِ علم کی نا آگاهی ایک بڑی آفت

اہلِ علم کی نا آگاهی ایک بڑی آفت

از تبرکات مرجع راحل آیۃ اللہ العظمی سید محمد شیرازی رحمۃ اللہ علیہ

ایک شخص ہندوستان سے میرے پاس آیا جو خود کو اہلِ علم کہتا تھا۔ میں نے چاہا کہ اسے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے محنت اور جدوجہد کی ترغیب دوں، اس لئے میں نے اس سے پوچھا: آپ یقیناً مہاتما گاندھی کو جانتے ہوں گے؟

انہوں نے کہا: ہاں، اللہ اس پر لعنت کرے!

میں نے یہ جاننے کے لئے کہ آیا وہ واقعی گاندھی کے بارے میں کچھ جانتے بھی ہیں یا نہیں، ان سے پوچھا: گاندھی کیسے آدمی تھے؟
انہوں نے جواب دیا: وہ کافر تھا اور بہت برا انسان تھا۔

اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ گاندھی کی زندگی اور حالات سے بالکل ناواقف ہے۔ اس کی مثال ایسے شخص جیسی تھی جس نے سنا ہو کہ اٹلی نے جنگِ عظیم میں ترقی کی، مگر وہ یہ نہ جانتا ہو کہ اٹلی کسی انسان کا نام نہیں بلکہ ایک ملک ہے، اور وہ کہنے لگے: "جنرل اٹلی نے فلاں کام کیا!”

بہرحال، اس قسم کی باتیں اس بات کی علامت ہیں کہ وہ شخص تاریخ سے، بلکہ اپنے ہی ملک کی تاریخ سے بھی بے خبر تھا۔

اور ایسی نا آگاہی اہلِ علم کے لئے ایک بہت بڑی آفت ہے۔

(چشمۂ معرفت، دروسِ اخلاق، دفتر اول، صفحہ 22)

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button