شیعہ مرجعیت

بہت سے فقہاء کا ماننا ہے کہ اگر عورت عادلہ و متقیہ ہو تو وہ عورتوں کی جماعت کی امامت کر سکتی ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی درس، جمعرات 25 ذی الحجہ 1447 ہجری کو منعقد ہوا۔

اس نشست میں بھی، پچھلے دروس کی طرح، انہوں نے حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جواب دیے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے عورتوں کی جماعت میں عورت کی امامت کے حکم کے بارے میں فرمایا: یہ مسئلہ اجماعی نہیں ہے اور اس بارے میں چند روایات موجود ہیں، جن پر بعض فقہاء نے سند کے لحاظ سے اشکال کیا ہے۔

معظم لہ نے مزید فرمایا: بہرحال دو دلیل موجود ہیں کہ اگر عورت عادلہ و متقیہ ہو تو وہ عورتوں کے لئے امام جماعت بن سکتی ہے۔

انہوں نے پہلی دلیل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: پہلی دلیل "قاعدہ تسامح” ہے، جسے 90 فیصد سے زائد فقہاء قبول کرتے ہیں۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے دوسری دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: دوسری دلیل "شہرت عظیمہ” ہے، جس کے بارے میں متعدد روایات موجود ہیں، لیکن یہ مسئلہ اجماعی نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button