ایران

ایران میں “آبادیاتی جنگ” کا خطرہ، مستقبل میں آبادی 3 کروڑ تک محدود ہونے کا اندیشہ

ایران میں “آبادیاتی جنگ” کا خطرہ، مستقبل میں آبادی 3 کروڑ تک محدود ہونے کا اندیشہ

ایران میں مسلسل کم ہوتی شرحِ پیدائش اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

وزارتِ صحت اور سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی میں اضافہ نہ صرف رک گیا ہے بلکہ آئندہ دہائیوں میں منفی شرحِ نمو کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو سن 2101 عیسوی (تقریباً 75 سال بعد) ایران کی آبادی گھٹ کر صرف 3 کروڑ کے قریب رہ سکتی ہے، جبکہ اسی عرصے میں پاکستان کی آبادی ایک ارب سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران میں شرحِ باروری خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے اور ہر سال پیدائش کی شرح میں 7 سے 10 فیصد کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ 10 سے 15 برسوں میں ایران “صفر شرحِ آبادی” کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔

حکام نے اس صورتحال کو “جنگِ آبادی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی میں کمی ملک کی تہذیبی، معاشی اور سماجی شناخت کے لئے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ ایران کے بعض صوبوں میں تو اموات کی تعداد پیدائش سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ نوجوانوں کی شادی، بچوں کی پیدائش اور خاندانی استحکام کے لیے مؤثر اور عملی پالیسیاں نافذ کی جائیں تاکہ مستقبل کے سنگین آبادیاتی بحران سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button