لکھنؤ؛ وکاس نگر سانحہ میں شیعہ قوم کی بے مثال خدمت اور ہمدردی

لکھنؤ کے علاقہ وکاس نگر میں پیش آنے والے دردناک آتشزدگی کے واقعہ نے جہاں کئی خاندانوں کو متاثر کیا، وہیں شیعہ قوم نے اپنی روایتی ایثار، ہمدردی اور انسان دوستی کی ایک روشن مثال قائم کی۔ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کو تنہا نہ چھوڑتے ہوئے شیعہ برادری پوری قوت کے ساتھ میدان میں نظر آئی۔
مولانا سید کلب جواد نقوی امام جمعہ شاہی آصفی مسجد لکھنو دیگر علماء اور مومنین کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور انسانیت کے نام پر بلا تفریق مدد کی اپیل کی۔ ان کی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے کئی علماء، انجمنوں اور سماجی تنظیموں نے فوری طور پر راحتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
متاثرین کے لئے کھانے، کپڑوں اور ادویات کا انتظام کیا گیا، جبکہ ہر فرد اپنی بساط کے مطابق مدد کے لئے آگے بڑھا۔ اس موقع پر شیعہ قوم نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ہر مصیبت میں نہ صرف اپنے بلکہ ہر ضرورت مند کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔
یہ منظر اہل بیت علیہم السلام کی عظیم تعلیمات کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایثار، بھائی چارہ اور انسانیت کو سب سے مقدم سمجھا جاتا ہے، اور شیعہ قوم نے ہمیشہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کی۔




