دینی فرائض کی انجام دہی میں تنبیہ کرنا جائز نہیں ہے …: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
دینی فرائض کی انجام دہی میں تنبیہ کرنا جائز نہیں ہے …: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ کا علمی جلسہ حسب دستور اتوار 14 ربیع الاول 1447 ہجری کو منعقد ہوا۔ جس میں گذشتہ جلسات کی طرح حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے گئے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے دینی فرائض کی انجام دہی میں تنبیہ کے سلسلہ میں فرمایا: دینی فرائض کی انجام دہی میں تنبیہ کا حکم دینے والی روایتوں میں سے کسی کی بھی سند معتبر نہیں ہے اور یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ معصوم علیہ السلام نے ایسی نصیحت کی ہے یا اس کا اظہار کیا ہے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: اگر مشہور فقہاء نے بھی ایسی روایات پر عمل کیا ہوتا اور ان کی بنیاد پر فتوی دیا ہوتا تو اسے حجت سمجھا جا سکتا تھا جبکہ ایسا بھی نہیں ہے۔
انہوں نے وضاحت فرمائی: اس کے علاوہ یہ طرز عمل قرآن کریم کے حکم کے خلاف ہے جو حکمت اور موعظہ حسنہ کا حکم دیتا ہے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید فرمایا: لہذا تنبیہ جائز نہیں ہے اور اس کے شرعی ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
معظم لہ نے ایسی روش پر عمل کرنے کے بارے میں فرمایا: ماضی میں کچھ لوگ جو یہ کرتے تھے اسے دین داروں کا طرز عمل قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ ایسے رویے عام لوگوں کا طرز عمل ہیں جو شرعی معاملات سے ناواقف ہیں۔
انہوں نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: بعض اوقات یہی مار پیٹ پر دیت واجب ہو جاتی ہے۔
واضح رہے کہ مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کے یہ روزانہ علمی نشستیں قبل از ظہر منعقد ہوتی ہیں، جنہیں براہ راست امام حسین علیہ السلام سیٹلائٹ چینل کے ذریعے یا فروکوئنسی 12073 پر دیکھا جا سکتا ہے۔




