امریکہخبریںدنیا

ٹرمپ نے جس دن کو "یوم آزادی" کہا اسی دن مختلف ممالک کے خلاف نئے ٹیرف لگائے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ممالک کے خلاف تجارتی محصولات کے سلسلہ کا اعلان کیا اور اس دن کو "یوم آزادی” قرار دیا۔

اپنے بیان میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ محصولات دوسرے ممالک کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف ایک باہمی اقدام ہے اور اس کا مقصد دیگر ممالک کی جانب سے امریکہ سے مانگی گئی رقم کے برابر وصول کرنا ہے۔

اس فیصلہ کی بنیاد پر مختلف ممالک کو مختلف فیصد نئے محصولات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یورپی یونین کو 20 فیصد کا سامنا کرنا پڑے گا، چین کو 34 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا، جاپان کو 24 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا، ایران کو امریکی سامان پر 10 فیصد ٹریفک کے نفاذ کی وجہ سے اس طرح کے ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے علاوہ دیگر ممالک بشمول ویتنام 46 فیصد، انڈیا 26 فیصد، انڈونیشیا 32 فیصد، کمبوجا 49 فیصد، ملائشیا 24 فیصد، جنوبی کوریا 25 فیصد، تھائی لینڈ 36 فیصد، تائیوان 32 فیصد، سوئٹر لینڈ 31 فیصد، یوکرین اور برطانیہ ہر ایک 10 فیصد ان ٹیرف میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ میکسیکو اور کینیڈا پر بھی 25 فیصد ٹیرف ہوگا۔

ٹرمپ کے اس اقتصادی فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کار اس کاروائی کو امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ کے ایک عنصر کے طور پر دیکھتے ہیں اور واشنگٹن کے بعض اتحادیوں نے عالمی تجارتی تعلقات پر اس پالیسی کے منفی اثرات سے خبردار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button