کلکتہ ہائی کورٹ کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر ہٹائے جانے پر خاموشی؛ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں مساجد پر پابندیوں کی نئی لہر
کلکتہ ہائی کورٹ کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر ہٹائے جانے پر خاموشی؛ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں مساجد پر پابندیوں کی نئی لہر
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی ہائی کورٹ نے مساجد میں اذان کی تشہیر کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے پر پولیس کی جانب سے عائد پابندی اور لاؤڈ اسپیکر ہٹائے جانے کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی، جس سے مسلمانوں کی مذہبی عبادات پر مزید پابندیاں عائد کئے جانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارہ "یو سی اے نیوز” (UCA News) کے مطابق، کلکتہ ہائی کورٹ نے پولیس کی جانب سے 4 ہزار سے زائد مساجد کے صوتی نظام جمع کرانے کے لیے مبینہ زبانی دباؤ اور حفاظتی اقدامات کے خلاف دائر شکایت کو اس بنیاد پر قبول نہیں کیا کہ اس سلسلے میں کوئی تحریری حکم موجود نہیں تھا۔
اس دوران مقامی رپورٹس کے مطابق، ریاستی حکام نے، جو حکمراں جماعت سے وابستہ ہیں، صوتی آلودگی سے نمٹنے کے بہانے مذہبی مقامات سے 5 ہزار سے زائد لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے ہیں، جن میں 80 فیصد سے زیادہ مساجد سے متعلق بتائے جاتے ہیں۔
اسلامی رہنماؤں اور کارکنوں نے اس اقدام کو یک طرفہ، امتیازی اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف منظم اسلام دشمنی کی نئی کڑی قرار دیا ہے۔




