لبنان کی معیشت پر جنگ کے شدید اثرات، عالمی بینک کی جانب سے 6.4 فیصد کمی کی پیشنگوئی
لبنان کی معیشت پر جنگ کے شدید اثرات، عالمی بینک کی جانب سے 6.4 فیصد کمی کی پیشنگوئی
عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین اقتصادی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ لبنان میں حالیہ فوجی جھڑپوں نے ملک کی کمزور اقتصادی بحالی کے عمل کو مکمل طور پر روک دیا ہے، جس کے نتیجے میں رواں سال ملکی معیشت میں 6.4 فیصد سکڑاؤ آنے کا امکان ہے۔
بی بی سی کے مطابق، سیاحت کے شعبہ میں شدید گراوٹ، خاندانوں کی مالی استطاعت میں نمایاں کمی، تجارتی راستوں کو پہنچنے والے نقصانات اور مسلسل عدم تحفظ اس شدید اقتصادی بحران کی اہم وجوہات ہیں۔
عالمی بینک کے اندازے کے مطابق، لبنان میں 2026ء تک افراطِ زر کی شرح تقریباً 17.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
اگرچہ لبنانی پارلیمان نے حال ہی میں بینکاری نظام میں اصلاحات کے لیے بعض قوانین منظور کیے ہیں، جن کا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی خیر مقدم کیا ہے، تاہم عالمی بینک کا کہنا ہے کہ لبنان کو اس گہرے بحران سے نکالنے کے لئے مالیاتی نظام کے ڈھانچے میں مزید بنیادی اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔




