افغانستان

کابل کے شیعہ آبادی والے دشتِ برچی علاقہ میں دستی بم کا دھماکہ؛ ہزارہ شیعوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر تشویش میں اضافہ

ہفتہ، 22 اگست کو کابل کے شیعہ آبادی والے دشتِ برچی علاقے میں پیوند سپر مارکیٹ کے سامنے واقع نانوائی کی دکان پر دستی بم پھینکے جانے کے نتیجے میں دھماکہ ہوا، جس سے دارالحکومت افغانستان کے اس علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

تاحال جانی نقصان کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے ہیں اور طالبان حکام نے بھی اس واقعہ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

افغانستان کی خبر رساں ایجنسی طلوع نیوز کے مطابق، یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دشتِ برچی کے شیعہ باشندے ابھی حالیہ شمعِ ہدایت اسکول پر ہونے والے حملے کے صدمے سے باہر نہیں نکلے۔

اس حملے میں دستی بم پھینکے جانے کے نتیجے میں 50 سے زائد طلبہ زخمی ہوئے تھے، جس پر یونیسف اور اقوامِ متحدہ کے دفتر نے شدید ردِعمل ظاہر کیا تھا۔

دشتِ برچی، جہاں بڑی تعداد میں ہزارہ شیعہ برادری آباد ہے، گزشتہ کئی برسوں کے دوران مساجد، مدارس اور عوامی مقامات پر متعدد دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیا دھماکہ افغانستان کے مظلوم شیعوں کے خلاف جاری عدمِ تحفظ اور مسلسل خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے، جبکہ ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ حکام کی ذمہ داری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت بھی مزید واضح ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button