افریقہخبریں

سوڈان کے ایک پوری نسل کے بچوں کا مستقبل تباہی کے خطرے سے دوچار

سوڈان میں جاری تین سالہ بحران اور خانہ جنگی نے ملک کے ایک پوری نسل کے بچوں کے مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کردہ انتباہات کے مطابق، جنگ شروع ہوئے 1200 سے زائد دن گزر چکے ہیں، جبکہ 80 لاکھ سے زیادہ سوڈانی بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے تقریباً تین چوتھائی اسکول، خصوصاً دارفور کے علاقے میں، یا تو تباہ ہو چکے ہیں، انہیں نقصان پہنچا ہے یا انہیں ان کے اصل تعلیمی مقصد کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسکولوں کے فوجی استعمال کے 154 سے زائد واقعات جبکہ تعلیمی مراکز پر 67 براہِ راست حملے بھی ریکارڈ کئے گئے ہیں۔

الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کے مطابق، اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ تعلیمی سہولیات کی تباہی کے ساتھ ساتھ نصف سے زیادہ اساتذہ بغیر تنخواہ کے اپنی خدمات انجام دینے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف کی رپورٹس کے مطابق، سوڈان میں اب تک تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جن میں نصف سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے سوڈان کی موجودہ صورتِ حال کو ’’ایک حقیقی انسانی المیہ‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جنگ کا تسلسل نہ صرف لاکھوں بچوں کو تعلیم سے محروم کر رہا ہے بلکہ پوری ایک نسل کے مستقبل کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button