فقہی و روائی تجزیہ: زیارتِ اربعین کو محض ایک "عام مستحب" قرار دینا کیوں ایک مغالطہ ہے...؟

فقہی اور روائی مباحث کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ زیارتِ اربعین کو محض ایک "عام مستحب” قرار دینا، فقہی اصطلاحات کے فہم میں ایک واضح مغالطہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عظیم الشان پیادہ روی اور زیارتِ اربعین شعائرِ الٰہی کی مؤکد ترین جلوہ گاہوں اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ایمانی شناخت کے نمایاں ترین مظاہر میں شمار ہوتی ہیں۔
ہمارے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں اس اہم موضوع کا تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے۔
فقہِ امامیہ میں احکامِ خمسہ (واجب، حرام، مستحب، مکروہ اور مباح) کسی عمل کے شرعی درجے اور اس کی الزام آوری کو بیان کرتے ہیں، لیکن یہ کسی عبادت کی حقیقی عظمت، اس کے اعتقادی مقام یا اس کے روحانی، تربیتی اور سماجی اثرات کا مکمل احاطہ نہیں کرتے۔
اسی لئے اگرچہ زیارتِ اربعین فقہی اصطلاح میں "مستحب” ہے، لیکن اس کا مستحب ہونا ہرگز اس کی کم اہمیت کی دلیل نہیں۔ کسی عمل کی قدر و منزلت کا تعین مجموعۂ ادلۂ شرعیہ، اس کے دینی و اجتماعی آثار اور اس پر مترتب عناوین کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔
دینی تعلیمات اور متعدد شیعہ فقہاء کے مباحث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اکابر فقہائے امامیہ نے متعدد روایات کی بنیاد پر زیارتِ امام حسین علیہ السلام کے وجوب کے ظہور کا نظریہ پیش کیا ہے۔ محدثِ بزرگ شیخ حر عاملی، مصنف وسائل الشیعہ، نے بھی بعض روایات کی بنا پر اس کے وجوبِ کفائی کا احتمال ذکر کیا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ فقہائے امامیہ کی نگاہ میں زیارتِ سیدالشہداء علیہ السلام محض ایک انفرادی مستحب عمل نہیں بلکہ ایک عظیم دینی شعیرہ اور امت کی اجتماعی ذمہ داری کی حیثیت رکھتی ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں بھی اس زیارت پر غیر معمولی تاکید ملتی ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کامل الزیارات میں ارشاد فرماتے ہیں: "لَا تَدَعْ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ” "امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو ہرگز ترک نہ کرو۔”
روایت میں زیارت کو ترک کرنے کو خیرِ کثیر سے محرومی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے، جیسا کہ تہذیب الأحکام میں منقول ہے، زیارتِ اربعین کو مؤمن کی پانچ نمایاں نشانیوں میں شمار فرمایا ہے۔ یہ ارشاد صرف ایک مستحب عمل کی ترغیب نہیں بلکہ مؤمن کی دینی شناخت، ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے وفاداری اور ایمانی تشخص کا اعلان ہے۔
قرآنِ مجید بھی اسی حقیقت کی تائید کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ” (سورۂ حج: 32) "اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یقیناً یہ دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے۔”
اس آیت کی روشنی میں زیارتِ اربعین اور اس سے وابستہ عظیم اجتماع، تعظیمِ شعائرِ الٰہی، اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت و مودّت اور امتِ مسلمہ کے دینی شعور کا عملی مظہر ہے۔
زیارتِ اربعین تشیع کی تاریخی شناخت، پیروانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے اتحاد، اخوت اور باہمی یکجہتی کی روشن علامت ہے۔ لہٰذا دینی مسائل پر اظہارِ رائے کرنے والے علماء، خطباء اور اصحابِ منبر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کا عمیق اور مستند فہم پیش کرتے ہوئے اس عظیم شعیرہ کو محض ایک "عام مستحب” قرار دینے سے گریز کریں۔ کیونکہ علمی تحقیق کے بغیر کی جانے والی گفتگو نہ صرف عوامی فہم میں ابہام پیدا کر سکتی ہے بلکہ اس عظیم الٰہی امانت کی معرفت اور اس کی برکات سے بھی لوگوں کو محروم کر سکتی ہے۔



