سنیوں میں گھسے یزیدی عناصر: نقاب اترا تو حقیقت سامنے آگئی

کربلا صرف تاریخ نہیں، حق و باطل کے درمیان دائمی معیار ہے۔ زمانے بدلتے ہیں، چہرے اور عنوان بدلتے ہیں، مگر یزیدی فکر نئی شکلوں میں پھر ظاہر ہوسکتی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے سوشل میڈیا پر اردو، ہندی اور رومن اردو میں بعض ایسے عناصر اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں جو سنی شناخت کی آڑ میں یزید کی حمایت اور سانحۂ کربلا کی تاویلیں پیش کر رہے ہیں۔ مگر واضح رہے کہ یہ پورا سنی طبقہ نہیں، بلکہ چند مخصوص یزید نواز عناصر ہیں۔
تعجب یہ ہے کہ قاتل کے لئے سیاسی حالات، احتمالات اور عذر تراشے جاتے ہیں، مگر مظلوم کربلا امام حسین علیہ السلام سے سوال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بیعت کیوں نہ کی اور قیام کیوں کیا۔
گویا قاتل کے لئے وکالت نامہ، اور مظلوم کے لئے فردِ جرم!
اصل مسئلہ یزید کے نام سے بڑھ کر وہ فکر ہے جو طاقت کو حق، اقتدار کو جواز اور ظلم کو قابلِ تاویل بنا دیتی ہے۔ یہی یزیدی منطق ہے؛ نام بدلتے ہیں، ذہنیت نہیں۔
سوشل میڈیا نے ان چھپے ہوئے رجحانات کو بے نقاب کردیا ہے۔ مذہبی القاب، پگڑی، صافہ، ظاہری نسبتیں اور مقدس الفاظ اب اس سوال سے فرار کا راستہ نہیں بن سکتے کہ آپ کی ہمدردی آخر کس کے ساتھ ہے؟
کربلا کے قاتل کے لئے دلائل تراشنے والا شخص اگر اپنے لئے کوئی بھی مذہبی عنوان منتخب کرے، اس کا فکری چہرہ اس کے اپنے الفاظ ظاہر کردیتے ہیں۔
نقاب اتر چکا ہے؛ اب مسئلہ شناخت کا نہیں، موقف کا ہے۔
تاریخ کے کٹہرے میں مظلوم کو کھڑا کرنے والوں کو ایک دن یہ بھی جواب دینا ہوگا کہ قاتل کے لئے وکالت کیوں کی؟ ظلم کے لئے تاویل کیوں تراشی؟ اور مظلوم کے حقِ مزاحمت پر سوال کیوں اٹھایا؟
کربلا گزر نہیں گئی؛ وہ آج بھی پوچھ رہی ہے: تمہاری زبان پر کس کا دفاع ہے، اور تمہارے ضمیر میں کس کا ساتھ؟




