مصر کے شیعیان کا مقامِ رأس الحسینؑ کے بند دروازوں پر احتجاج؛ عاشورا کی آمد پر مذہبی حقوق کا مطالبہ

مصر کی شیعہ برادری نے ایک دردناک بیانیے میں، عاشورائے حسینی کی آمد کے موقع پر مقامِ مبارک رأس الحسین علیہ السلام کو بار بار بند کیے جانے پر شدید احتجاج درج کرایا ہے۔
بیانیے میں کہا گیا ہے کہ مصری وزارتِ اوقاف کا یہ اقدام، جو ”مرمت و تعمیرِ نو” کے بہانے ٹھیک انہی ایام میں کیا جاتا ہے جب اہلِ بیت علیہم السلام کے عاشق اس روضۂ مقدسہ پر عزاداری کے لیے جمع ہوتے ہیں، اپنے اصل محرکات کو مشکوک بنا دیتا ہے اور آئینِ ملک میں ضمانت یافتہ مذہبی آزادی کے بالکل منافی ہے۔
شیعہ نیوز ایجنسی کے مطابق، مصری شیعیان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان کی جڑیں اسی سرزمین میں پیوست ہیں اور وہ اہلِ مصر کا ناگزیر حصہ ہیں، واضح کیا کہ اس بارگاہ پر ان کی حاضری محض ایک پُرامن، عارفانہ اور مہذب زیارت کا اظہار ہے۔
شیعیانِ مصر نے قاہرہ کے اربابِ اقتدار سے استدعا کی ہے کہ وہ تمام شہریوں کے قانونی حقوق کا احترام کریں، امتیازی رویّوں کا خاتمہ کریں اور مذہبی تعصب کو راہ نہ دیں؛ کیونکہ عقائد کے تنوع کا احترام ہی پُرامن بقائے باہمی کا حسین ترین مظہر اور سماجی استحکام کا ضامن ہے۔




