تاریخ اسلام

منصور دوانیقی؛ ظلم کی تاریکی میں بجھتا ہوا اقتدار

6 ذی الحجہ شیعہ تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جو ظلم و جبر کے ایک سیاہ باب کے اختتام کی یاد دلاتا ہے۔ اسی روز عباسی خلیفہ منصور دوانیقی، جو اپنی سنگ دلی، کنجوسی اور اہلِ بیتؑ دشمنی کے باعث بدنام تھا، دنیا سے رخصت ہوا۔ وہ اقتدار کے نشے میں اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ خلافت کو خدمت نہیں بلکہ بادشاہت سمجھتا تھا، اور اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے خونِ بے گناہ بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا۔

منصور نے عباسی سلطنت کو مضبوط کرنے کے لیے ظلم کی ایسی داستانیں رقم کیں جن میں سادات، علویوں اور اہلِ بیتؑ کے چاہنے والوں کا خون شامل تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام جیسی عظیم علمی و روحانی شخصیت بھی اس کے ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی۔ امامؑ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور علمی عظمت منصور کے لیے خوف کا سبب بن گئی تھی، اسی لیے وہ بارہا آپؑ کو دبانے اور آپؑ کے اثر و نفوذ کو کم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

اگرچہ منصور نے بغداد جیسے عظیم شہر کی بنیاد رکھی، مگر تاریخ نے اس کے محلات سے زیادہ اس کے مظالم کو یاد رکھا۔ اس کے دور میں اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں پر سختیاں عروج پر پہنچ گئیں، لیکن ظلم کی یہ طاقت آخرکار مٹ گئی، جبکہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور ان کے ماننے والوں کی قربانیاں آج بھی زندہ ہیں۔

تاریخ کا یہی فیصلہ ہے کہ تخت و تاج باقی نہیں رہتے، مگر حق، علم اور قربانی کا چراغ کبھی بجھتا نہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button