عراق

عراق کی نئی حکومت کا سخت معاشی امتحان

عراق کی نئی حکومت کا سخت معاشی امتحان

عراق کی نئی حکومت ایک ایسے وقت میں ملک کی باگ ڈور سنبھال رہی ہے جب عالمی توانائی مارکیٹ میں تبدیلیوں اور مالی دباؤ کے ساتھ ساتھ بغداد کے سامنے اقتصادی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور غیر نفتی شعبوں کو مضبوط بنانے کے اہم مواقع بھی موجود ہیں۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے مل کر دیکھتے ہیں:

عراق سیاسی اور اقتصادی انتظام کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں اسے بیک وقت مختلف مواقع اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔

ملک کی نئی حکومت ایک حساس ماحول میں اقتصادی استحکام برقرار رکھنے اور اصلاحات و ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورت حال عراق کی اقتصادی مستقبل کے لیے ایک اہم امتحان سمجھی جا رہی ہے۔

روزنامہ العربی الجدید کے مطابق عراق کی معیشت اب بھی تیل کی آمدنی پر منحصر ہے اور توانائی کی برآمدات ملک کے بجٹ کا بنیادی ستون ہیں۔

تاہم تیل کی برآمد کے راستوں میں حالیہ تبدیلیوں اور عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ نے بغداد کو آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے لیے نئے حل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دباؤ کے باوجود عراق کے پاس زراعت، علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔

عراق کی جغرافیائی حیثیت اور علاقائی منڈیوں سے اس کے روابط اسے خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

عراقی پارلیمان کے بعض نمائندوں نے العربی الجدید سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ آئندہ حکومت کو جاری اخراجات کے انتظام اور ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

ان کے مطابق بینکاری نظام میں اصلاحات، نجی شعبے کی حمایت اور پیداواری منصوبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ نئی حکومت کے سامنے موجود اہم ترین مواقع میں شامل ہیں۔

اسی دوران عراق کے اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل پر مسلسل حد سے زیادہ انحصار، بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور عالمی مالی دباؤ ایسی مشکلات ہیں جن کے لیے محتاط منصوبہ بندی اور تدریجی اصلاحات ضروری ہیں۔

تاہم بہت سے تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ وسیع قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت اور متنوع اقتصادی صلاحیتوں کی بدولت عراق اس حساس مرحلے سے گزرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

علاقائی مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ اگر عراقی حکومت داخلی پیداوار کو مضبوط بنانے، خدمات کے شعبے کی ترقی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے مواقع سے صحیح فائدہ اٹھا سکے تو آنے والے برسوں میں عراق خطے میں اپنی اقتصادی حیثیت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button