
نئی دہلی، پیر کی شام دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ایک کار میں زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 13؍ افراد ہلاک اور 24؍ سے زائد زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک گاڑی میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر ایک کے نزدیک ٹریفک سگنل پر رکی ہوئی تھی۔ دھماکے کے فوراً بعد کار میں آگ بھڑک اٹھی جس نے قریبی تین مزید گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور چند ہی لمحوں میں پورا علاقہ دھوئیں اور افراتفری سے بھر گیا۔
دہلی فائر سروسز کے مطابق، شام 6 بجکر 56 منٹ پر پہلی اطلاع موصول ہوتے ہی پانچ فائر ٹینڈرز موقع پر روانہ کیے گئے۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر ایل این جے پی اسپتال منتقل کیا، جہاں کئی افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچا نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ ایک سست رفتاری سے چلتی کار کے اچانک رکنے کے بعد ہوا، تاہم دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ابھی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھا کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جب کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش تیز کر دی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات تمام زاویوں سے کی جا رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گاڑی کے سابق مالک کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد دہلی، ممبئی اور اتر پردیش میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ امریکی سفارتخانے نے بھی اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لال قلعہ کے اطراف کے علاقے سے گریز کریں اور محتاط رہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
لال قلعہ، جو دہلی کا تاریخی اور سیاحتی مقام ہے، ماضی میں بھی سیکیورٹی واقعات کا نشانہ بن چکا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں دارالحکومت میں اس نوعیت کے دھماکے نہایت کم ہوئے ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور پولیس کی ہدایات پر عمل کریں۔




