ایرانی پارلیمنٹ پر توپ باری
23 جمادی الاول: ایرانی پارلیمنٹ پر توپ باری
23 جمادی الاول 1326ھ (23 جون 1908ء) کو قاجار بادشاہ محمد علی شاہ کے حکم پر تہران کی مجلسِ شورای ملی پر توپوں سے حملہ کیا گیا۔ کرنل ولادیمیر لیاخوف کی قیادت میں قزاق بریگیڈ کی اس کارروائی کو ایران میں استبدادِ صغیر کے آغاز کا اہم واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور مشروطہ تحریک کے متعدد رہنما گرفتار یا قتل کئے گئے۔
ایران کی تحریکِ مشروطہ کا بنیادی مقصد شاہی اختیارات کو قانون کا پابند بنانا، عوامی نمائندگی کو فروغ دینا اور حکومتی امور میں جواب دہی قائم کرنا تھا۔ مظفرالدین شاہ کے دور میں 1906ء میں مشروطہ کا فرمان جاری ہوا اور مجلس قائم ہوئی، لیکن محمد علی شاہ کے اقتدار میں آنے کے بعد دربار اور مجلس کے اختلافات شدت اختیار کرگئے۔
اس بحران میں نجف اشرف کے ممتاز علماء اور عظیم الشان فقہاء آیۃ اللہ العظمیٰ آخوند ملا محمد کاظم خراسانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آیۃ اللہ شیخ عبداللہ مازندرانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور آیۃ اللہ میرزا حسین خلیلی تہراتی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے تحریکِ مشروطہ کی حمایت اور شاہی استبداد کی مخالفت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان علماء نے اپنے فتاویٰ، خطوط اور ٹیلی گرام کے ذریعے آئینی نظام کے تحفظ اور عوامی حقوق کی حمایت کی۔
پارلیمنٹ پر حملے کے بعد علمائے نجف سے منسوب ایک حکم بھی تاریخی مآخذ میں نقل ہوا ہے، جس میں محمد علی شاہ کے خلاف جدوجہد، مسلمانوں کی جان، عزت اور اموال کے دفاع اور مشروطہ کے استحکام پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا ایک اہم حصہ یہ ہے:
"الیوم همت در دفع این سفاک جبار و دفاع از نفوس و اعراض و اموال مسلمین از اهم واجبات، و دادن مالیات به گماشتگان او از اعظم محرمات، و بذل جهد در استحکام و استقرار مشروطیت به منزله جهاد در رکاب امام زمان ارواحنا فداه، و سر مویی مخالفت و مسامحه به منزله خذلان و محاربه با آن حضرت صلوات الله و سلامه علیه است.”
یعنی آج اس ظالم و جابر حکمران کے خلاف جدوجہد اور مسلمانوں کی جان، عزت اور اموال کا دفاع اہم ترین واجبات میں سے ہے۔ اس کے کارندوں کو ٹیکس ادا کرنا سخت حرام ہے۔ مشروطہ کے استحکام کے لئے کوشش کرنا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے رکاب میں جہاد کرنے کے مانند ہے، جبکہ اس کی مخالفت یا اس سلسلے میں معمولی کوتاہی امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی حمایت سے دست برداری اور ان سے جنگ کے مترادف ہے۔
جولائی 1909ء میں مشروطہ پسند قوتوں نے تہران پر قبضہ کرلیا، محمد علی شاہ معزول ہوا اور آئینی نظام بحال ہوا۔ اس جدوجہد میں علمائے نجف کی فکری اور سیاسی حمایت کو بھی اہم تاریخی مقام حاصل ہے۔
پارلیمنٹ پر توپ باری کا واقعہ ایران کی آئینی تاریخ کا ایک اہم موڑ اور تحریکِ مشروطہ میں نجف کے علماء کے سیاسی و فکری کردار کی نمایاں مثال ہے۔




