شیعہ مرجعیت

مہر اور قرض کی ادائیگی میں قوتِ خرید کا لحاظ ضروری: آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

مہر اور قرض کی ادائیگی میں قوتِ خرید کا لحاظ ضروری:  آیت اللہ العظمیٰ شیرازی
 
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے مہنگائی، گزرتے وقت، کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ اور قرضوں، مہر اور دیرینہ مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے طریقے سے متعلق اپنے فقہی نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: مدت گزرنے کے بعد قرضوں کی ادائیگی میں معاہدوں کے اندر قیمت اور قوتِ خرید "حیثیتِ تقییدی” رکھتی ہے، "حیثیتِ تعلیلی” نہیں؛ یعنی کرنسی کی تبادلاتی قدر ذمہ داریوں کا اصل رکن ہے، نہ کہ اس کا محض عددی اعتبار۔ اسی بنیاد پر اگر 50 سال پہلے یا گزشتہ ادوار میں کسی مالی ذمہ داری یا قرض کے لیے، مثلاً مہر کے طور پر، کوئی رقم مقرر ہوئی ہو تو وقت گزرنے کے بعد اس کی ادائیگی کا اصل معیار عقد کے وقت اس رقم کی حقیقی قوتِ خرید ہے (مثلاً اس دور کی متعارف اشیا کی مقدار سے اس کی پیمائش)۔
معظم لہ نے بعض روایات سے استدلال کے جواب میں، جو بظاہر کافی مدت گزرنے کے بعد بھی ابتدائی عدد کے مطابق ادائیگی کو کافی قرار دیتی ہیں، یاد دلایا: یہ احادیث ان صورتوں سے متعلق ہیں جن میں وقت کا فاصلہ قیمتوں میں معمولی تبدیلی اور متعارف شرحِ مہنگائی (مثلاً سالانہ 1 یا 2 فیصد) کے ساتھ ہو؛ لیکن جب وقت گزرنے کے ساتھ کرنسی کی قدر میں گراوٹ غیر معمولی، اچانک اور شدید ہو جائے (جیسے 100، 200 یا 300 فیصد مہنگائی)، تو وہ روایات شامل نہیں ہوتیں اور اس فرض سے منصرف ہیں۔
آپ نے مسلّمہ قاعدے «العقود تابعة للقصود» (عقود و معاہدے فریقین کے حقیقی قصد و ارادے کے تابع ہوتے ہیں) سے استناد کرتے ہوئے تاکید فرمائی: مالی معاہدے کے وقت فریقین کا قصد ایک متعین مالی قدر اور قوتِ خرید تک پہنچنا تھا، نہ کہ ایسا عدد جو وقت گزرنے کے ساتھ بے قیمت ہو جائے؛ اس لیے غیر معمولی مہنگائی کی صورت میں مدت گزرنے کے بعد ادائے دین اور بریٔ ذمہ صرف تعہد کے وقت کی حقیقی قدر اور قوتِ خرید کے مساوی رقم ادا کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button