دنیا

۲۴ اکتوبر، یومِ اقوامِ متحدہ؛ ۱۹۴۵ کے چارٹر کے مقاصد کا جائزہ اور اسلامی تعلیمات

۲۴ اکتوبر کو عالمی یومِ اقوامِ متحدہ کے طور پر منایا جاتا ہے، جو ۱۹۴۵ میں اس تنظیم کے چارٹر کے باضابطہ نفاذ کی یاد دلاتا ہے۔

یہ ایک تاریخی دستاویز ہے جو عالمی جنگوں کو روکنے، بین الاقوامی امن کے تحفظ اور ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کے مقصد سے مرتب کی گئی تھی اور جس نے جدید بین الاقوامی قانون اور تعلقات کی بنیاد رکھی۔

اس سلسلے میں ہمارے ساتھی کی تیار کردہ رپورٹ پیش ہے:

۲۴ اکتوبر یومِ اقوامِ متحدہ ہے۔ یہ دن دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد ۵۰ ممالک کے دستخطوں کے ساتھ ۱۹۴۵ میں اس تنظیم کے بانی چارٹر کے باضابطہ نفاذ کی یاد تازہ کرتا ہے۔

اس مفصل دستاویز میں ایک دیباچہ اور ۱۹ ابواب شامل ہیں، جن میں طاقت کے استعمال سے گریز، تنازعات کے پُرامن تصفیے، اقوام کے حقِ خود ارادیت اور نسل، جنس یا مذہب کی تفریق کے بغیر انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام جیسے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔

چارٹر میں طے شدہ ڈھانچے کے مطابق جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور عالمی عدالتِ انصاف جیسے اہم ادارے اس کی دفعات پر عمل درآمد اور عالمی برادری کے استحکام کے ذمہ دار ہیں۔

«نیویارک ٹائمز» کے مطابق اقوامِ متحدہ کا چارٹر اگرچہ سرحدوں سے ماورا تعاون کو آسان بنانے اور مخصوص ادارے قائم کرنے میں مؤثر رہا ہے، لیکن عمل درآمد کی بعض خامیوں، ویٹو کے ناکارہ نظام اور امتیازی رویوں کے باعث اس میں درج اقدار کا مکمل نفاذ سنگین چیلنجوں سے دوچار ہے۔

قانونی ماہرین کے جائزوں کے مطابق بحرانوں پر قابو پانے میں سلامتی کونسل کی ناکامی اور انسانی حقوق سے متعلق قراردادوں پر عمل نہ ہونا چارٹر میں ساختی اصلاحات کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ عالمی امن کے دوام کے لیے فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر نظرِ ثانی، جنرل اسمبلی کے اختیارات میں اضافہ اور بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات کے بجائے عدل و انصاف اور انسانی وقار کے اصولوں کی عملی پابندی ضروری ہے۔

اسی تناظر میں قرآنِ کریم اور روایاتِ اہلِ بیت علیہم السلام نے انسانی چارٹروں کی تدوین سے صدیوں پہلے عدل پر مبنی معاشرے کی بنیاد انسان کی ذاتی کرامت پر رکھی تھی، جیسا کہ سورۂ اسراء کی آیت ۷۰ («وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ») میں ہے: «اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت و کرامت عطا کی۔» نیز عدلِ مطلق کو بھی اساس قرار دیا گیا ہے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت اور مالکِ اشتر کے نام آپؑ کے عہد نامے میں، جو آپؑ کا انتظامی منشور ہے، انسان یا تو دینی بھائی ہیں یا خلقت میں ایک دوسرے کے مثل۔ یہ وہ بلند اصول ہے جو حقیقی امن کو رسمی معاہدوں میں نہیں بلکہ حق کی ادائیگی اور ہمہ گیر انصاف میں مضمر مانتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button