
16 اکتوبر، عالمی یومِ خوراک، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوراک محض جسمانی ضرورت نہیں، بلکہ انسانی زندگی، عزتِ نفس اور معاشرتی انصاف کی بنیاد ہے۔ ایسی دنیا میں جہاں خوراک پیدا کرنے کے وسائل موجود ہیں، بھوک اور غذائی قلت سے دوچار انسانوں کی موجودگی ہم سب کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
قرآن کریم نے بھوک سے نجات کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیا ہے: "الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ”؛ یعنی جس نے انہیں بھوک سے بچایا اور خوف سے امن عطا کیا (سورۂ قریش: 4)۔ اسی طرح اہلِ بیت علیہم السلام کے ایثار کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا”؛ یعنی وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں (سورۂ انسان: 8)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حقیقی نیکی میں محروم انسانوں کی بھوک مٹانا بھی شامل ہے۔
امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی سیرت عدل، ایثار اور ضرورت مندوں کی خبرگیری کا روشن نمونہ ہے۔ آپؑ کی تعلیمات ہمیں متوجہ کرتی ہیں کہ معاشرے میں محروم افراد کی ضروریات سے غفلت اختیار کرکے حقیقی فلاح حاصل نہیں کی جاسکتی۔ بھوکے کو کھانا کھلانا محض انفرادی صدقہ نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کا عملی اظہار ہے۔
بھوک کا بحران اور ہماری ذمہ داری
اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (FAO) اور دیگر متعلقہ اداروں کی عالمی رپورٹس مسلسل متوجہ کرتی ہیں کہ دنیا کے کروڑوں انسان غذائی قلت یا مناسب خوراک تک رسائی کے مسائل سے دوچار ہیں۔ مسلح تنازعات، غربت، موسمیاتی تبدیلیاں، مہنگائی اور خوراک کی غیر منصفانہ تقسیم اس بحران کے اہم اسباب ہیں۔ غزہ اور سوڈان جیسے بحران زدہ علاقوں میں بھی خوراک کی شدید کمی نے انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے۔
اس مسئلہ کا حل صرف خوراک کی پیداوار بڑھانے میں نہیں، بلکہ اسے ضرورت مندوں تک پہنچانے، ضیاع روکنے اور کم آمدنی والے خاندانوں کی قوتِ خرید بہتر بنانے میں بھی ہے۔
آئیے، بھوک کے خلاف عملی قدم اٹھائیں!
1. انفرادی سطح پر: خوراک ضائع کرنے سے بچیں اور اپنے آس پاس بھوکے اور ضرورت مند افراد کی مدد کریں۔
2. اجتماعی سطح پر: مساجد، امام بارگاہوں، مدارس اور فلاحی اداروں کے ذریعہ مستحق خاندانوں کے لئے منظم غذائی امداد کا انتظام کریں۔
3. سماجی سطح پر: شادی، ولیمہ، چالیسواں جیسی تقریبات میں کھانے کے ضیاع کو روکیں اور قابلِ استعمال اضافی خوراک محفوظ طریقے سے ضرورت مندوں تک پہنچائیں۔
4. ادارہ جاتی سطح پر: حکومتوں اور فلاحی تنظیموں سے مطالبہ کریں کہ غذائی تحفظ، کسانوں کی معاونت اور بحران زدہ علاقوں تک امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے۔
عالمی یومِ خوراک کا حقیقی پیغام محض ایک دن منانا نہیں، بلکہ بھوک کے خلاف مسلسل جدوجہد کرنا ہے۔ سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام کا تقاضا ہے کہ ہم دسترخوان کی وسعت کے ساتھ محروم انسانوں کی فکر بھی وسیع کریں۔ جس معاشرے میں ایک شخص ضرورت سے زیادہ خوراک ضائع کرے اور دوسرا بھوکا سوئے، وہاں عدل و ہمدردی کے قیام کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔




