تقاصّ، یعنی طلبگار کا بغیر اجازت مقروض کا مال لے لینا، صرف اُسی صورت میں جائز ہے جب حق وصول کرنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہے : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی
تقاصّ، یعنی طلبگار کا بغیر اجازت مقروض کا مال لے لینا، صرف اُسی صورت میں جائز ہے جب حق وصول کرنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہے : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی
آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ کا علمی درس بروز پنجشنبہ، چار جمادی الاول سنہ چودہ سو اڑتالیس ہجری کو منعقد ہوا۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے "تقاصّ” کے شرعی حکم کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ تقاصّ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی کے طلبگار ہوں اور آپ کا مال اُس کے پاس ہو، مگر وہ شخص آپ کا حق ادا کرنے سے انکار کر دے۔
احکامِ شرعی میں خاص وجوہات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے بیان کیا کہ "ہند” نے اپنے شوہر ابوسفیان کی طرف سے نفقہ نہ دیے جانے کی شکایت کی تھی، تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے اُسے اجازت عطا فرمائی کہ وہ اپنی ضرورت بھر ابوسفیان کے مال میں سے لے لیں۔ یہ میاں بیوی کے رشتے میں ایک خاص حکم ہے۔
اس کے بعد آپ نے اس بات پر زور دیا کہ دوسروں کے مال سے اپنا حق وصول کرنا اور تقاصّ کرنا عمومی طور پر شرعاً صرف دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے: پہلی شرط یہ کہ اپنا قرض وصول کرنے کے لیے بات چیت، شکایت یا حق ثابت کرنے جیسا کوئی دوسرا راستہ موجود نہ ہو، اور دوسری شرط یہ کہ معاشرے میں بدنظمی اور انتشار سے بچنے کے لیے لازماً کسی فقیہِ عادل سے اجازت حاصل کی جائے۔




