3 جمادی الاول؛ یوم وفات آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حجت کوہکمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

بانی مدرسہ مبارکہ حجتیہ قم
تاریخِ تشیع میں بعض شخصیات اپنی علمی عظمت، اخلاقی بلندی اور دینی خدمات کے باعث ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حجت کوہکمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ انہی ممتاز علمائے امامیہ میں سے ہیں جنہوں نے فقہ و اصول کی تدریس، علمی تحقیق اور حوزۂ علمیہ قم کے استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی علم، تقویٰ، تواضع اور خدمتِ دین کا قابلِ مطالعہ نمونہ ہے۔
آپ 28 شعبان 1310 ہجری کو تبریز میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد نجف اشرف تشریف لے گئے اور شیخ الشریعہ اصفہانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، سید محمد کاظم یزدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، میرزا محمد حسین نائینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور آقا ضیاء عراقی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جیسے ممتاز علماء و فقہاء سے استفادہ کیا۔ 1349 ہجری میں قم آمد کے بعد تدریس و تحقیق میں مصروف ہوئے اور حوزۂ علمیہ کی علمی ترقی کے لئے اہم خدمات انجام دیں۔
آپ کی علمی شخصیت فقہ، اصول، حدیث اور رجال کے گہرے مطالعہ سے عبارت تھی۔ حاشیہ بر کفایۃ الاصول، کاشف الحجاب ورافع النقاب اور لوامع الانوار الغرویہ فی مرسلات الآثار النبویہ جیسی تصانیف آپ کے علمی ذوق اور تحقیقی کاوشوں کی عکاس ہیں۔ آپ کے دروس کی تقریرات نے بھی اس علمی میراث کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آپ کا نمایاں ترین ادارہ جاتی کارنامہ قم میں مدرسۂ علمیہ حجتیہ کی تاسیس ہے۔ یہ ادارہ دینی طلبہ کی تعلیم، رہائش اور علمی تربیت کے لئے قائم کیا گیا۔ اس کے ذریعہ آپ نے واضح کیا کہ علومِ اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت صرف تدریس تک محدود نہیں، بلکہ ایسے علمی ماحول کی تشکیل بھی ضروری ہے جہاں آئندہ نسلوں کے علماء تحقیق و تدریس کے مراحل طے کرسکیں۔ مدرسۂ حجتیہ آج بھی آپ کی علمی بصیرت اور دوراندیشی کی یاد دلاتا ہے۔
آپ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو سادگی، تواضع اور خود نمائی سے گریز تھا۔ علمی مقام و مرتبہ کے باوجود آپ کی زندگی اس حقیقت کی ترجمان تھی کہ عالم کی عظمت صرف اس کے علم میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، اخلاص اور خدمتِ دین میں بھی مضمر ہے۔ آپ کی علمی و اخلاقی روایت نے شاگردوں اور حوزۂ علمیہ کی فضا پر اپنے اثرات مرتب کیے۔
بانی حوزہ علمیہ قم آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری یزدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کے بعد حوزۂ علمیہ قم کے استحکام اور علمی تسلسل کے لئے آیۃ اللہ العظمیٰ حجت کوہکمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سمیت ممتاز علماء نے اہم ذمہ داریاں ادا کیں۔ ان کی تدریسی خدمات، علمی آثار اور مدرسۂ حجتیہ کی تاسیس کو اسی تاریخی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
آپ نے 3 جمادی الاول 1372 ہجری کو وفات پائی۔ آیت اللہ العظمیٰ سید حسین بروجردی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کو قم میں اپنے قائم کردہ مدرسۂ حجتیہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ یوں آپ کی آخری آرام گاہ بھی اس علمی ادارے سے وابستہ ہوئی جو آپ کی دینی جدوجہد کا ایک نمایاں نشان ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حجت کوہکمری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی حیات و خدمات کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ علم کی حقیقی خدمت تحقیق، اخلاقی تربیت اور پائیدار اداروں کی تعمیر سے مکمل ہوتی ہے۔ ان کی یاد تازہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ علم کو امانت، تدریس کو تربیت اور دینی خدمت کو اخلاص و ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا جائے۔ خداوندِ متعال ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں علومِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی خدمت کی توفیق عطا کرے۔ آمین




