آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا شیرازی کا تاریخی فتویٰ؛ استعمار کے خلاف عوامی بیداری کا سنگِ میل

یکم جمادی الاول 1309 ہجری کا دن آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد حسن حسینی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے اس تاریخی فتوے کی یاد دلاتا ہے جس نے ایران میں برطانوی اقتصادی مداخلت کے خلاف عوامی مزاحمت کو فیصلہ کن قوت عطا کی۔ تمباکو کی حرمت سے متعلق اس فتوے نے محض ایک تجارتی معاہدے کو چیلنج نہیں کیا، بلکہ استعمار کی معاشی بالادستی، شاہی اقتدار کی بے مہار پالیسیوں اور قومی خودمختاری پر بیرونی تسلط کے خلاف ایک وسیع تحریک کی بنیاد مضبوط کی۔
ناصرالدین شاہ قاجار کی حکومت نے ایران میں تمباکو کی پیداوار، خرید و فروخت اور تجارت کے حقوق برطانوی کمپنی کو دے دیے تھے۔ اس رعایت سے مقامی تاجروں اور کسانوں کے معاشی مفادات متاثر ہوئے، جبکہ ایران کی معیشت پر غیر ملکی اجارہ داری قائم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔ معاہدے کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج شروع ہوا اور علما، تاجروں اور عوام کی شرکت سے مزاحمت نے ایک ملک گیر تحریک کی صورت اختیار کر لی۔
سامرا میں مقیم عالم اسلام کے عظیم عالم اور عالم تشیع کے مرجع اعلیٰ آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے شاہی حکومت کو خطوط اور پیغامات کے ذریعے اس معاہدے کے سنگین نتائج سے آگاہ کیا۔ جب سفارتی کوششوں سے مطلوبہ نتیجہ برآمد نہ ہوا تو تمباکو کے استعمال کی حرمت سے متعلق ان کا تاریخی فتویٰ عوامی مزاحمت کا مرکزی نقطہ بن گیا۔ لوگوں نے تمباکو کے استعمال سے اجتناب کیا، کاروبار متاثر ہوا اور احتجاج نے شاہی حکومت کے لیے معاہدے کو برقرار رکھنا دشوار بنا دیا۔ حتیٰ کہ شاہی حرم میں حقوں کا ترک کیا جانا اس بات کی علامت بن گیا کہ اس تحریک کا اثر اقتدار کے مراکز تک پہنچ چکا تھا۔
بالآخر حکومت کو تمباکو کی اجارہ داری کا معاہدہ منسوخ کرنا پڑا۔ اس کامیابی نے واضح کر دیا کہ معاشی طاقت اور سیاسی اقتدار کے باوجود حکومت عوامی اتحاد اور بااثر دینی قیادت کی مزاحمت کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ اس تحریک کی اہمیت صرف معاہدے کی منسوخی تک محدود نہیں رہی؛ اس نے ایرانی معاشرے میں سیاسی بیداری کو فروغ دیا، قومی خودمختاری کے تصور کو تقویت بخشی اور آئندہ آئینی تحریک کے لیے فکری و سماجی فضا ہموار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا تاریخی فتویٰ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ استعمار صرف فوجی قبضے سے نہیں، بلکہ معاشی اجارہ داری، سیاسی مداخلت اور قومی فیصلوں پر تسلط کے ذریعے بھی قوموں کو محکوم بناتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بیدار شعور، متحد عوام اور اصولی قیادت مزاحمت کی ایسی قوت بن سکتے ہیں جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ تمباکو کی تحریک نے ثابت کیا کہ جب مذہبی و سماجی قیادت عوام کے حقیقی مفادات کے دفاع کے لیے کھڑی ہو اور عوام ذاتی منفعت سے بلند ہوکر اجتماعی مقصد سے وابستہ ہو جائیں تو ایک فتویٰ بھی تاریخ کا دھارا موڑ سکتا ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی جدوجہد کا یہی پیغام آج بھی زندہ ہے: قومی خودمختاری کا تحفظ صرف اقتدار رکھنے والوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ بیدار قوموں کا اجتماعی فریضہ ہے؛ اور آزادی کی حقیقی بنیاد وہ شعور ہے جو ظلم کو معمول، استحصال کو مجبوری اور غلامی کو تقدیر تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔




