10 ربیع الثانی 1330 ہجری قمری، تزارِ روس کی فوج کے ہاتھوں حرمِ مطہر امام رضا علیہ السلام کی بے حرمتی کا دن؛ مشہد میں زائرین کی شہادت

10 ربیع الثانی 1330 ہجری قمری (10 فروردین 1291 ہجری شمسی) ایران کی تاریخِ معاصر کے تلخ ترین واقعات میں سے ایک اور حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے حرمِ مطہر کی کھلی بے حرمتی کی یاد دلاتا ہے۔
اس دن تزار روس کی شاہی فوج نے صحنوں اور رواقوں کی حرمت پامال کرتے ہوئے گنبدِ مطہر پر گولہ باری کی، زائرین کا قتلِ عام کیا اور آستانِ قدس رضوی کے خزانوں اور نفیس نوادرات کو لوٹ لیا۔
اس حوالے سے میرے ساتھی کی رپورٹ دیکھتے ہیں:
ایران کی مجلسِ شورایِ ملی کی جانب سے روس کے الٹی میٹم کو مسترد کئے جانے کے بعد، روسی حکومت نے وقت کی حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لئے مشہد پر فوجی جارحیت کی اور حرمِ مطہر پر حملہ کیا۔
روسی افواج نے مصنوعی بلوے کروا کر اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے بہانے مشہد میں داخل ہونے کے بعد 10 ربیع الثانی 1330 ہجری قمری کو ایک مختصر مہلت ختم ہوتے ہی حضرت امام رضا علیہ السلام کے صحن اور گنبدِ مطہر کو توپ خانے اور مشین گنوں سے براہِ راست نشانہ بنایا۔
بھاری توپوں کے گولوں سے بیرونی دروازوں، گلدستوں اور بالخصوص گنبدِ مطہر کو شدید نقصان پہنچا، یہاں تک کہ گنبد 18 مقامات پر ٹوٹ پھوٹ اور سوراخوں کا شکار ہو گیا۔
مقدس بارگاہ پر گولہ باری کے بعد روسی سپاہی اور قزاق گھوڑوں سمیت صحنوں میں گھس آئے اور کھڑکیوں اور ضریحِ مطہر کی جالیوں سے زائرین اور پناہ گزینوں پر فائرنگ کر دی۔
تاریخی دستاویزات اور عینی شاہدین کی گواہی کے مطابق اس حملے میں درجنوں زائرین اور مجاور شہید اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے۔
قتلِ عام کے بعد روسی فوجیوں نے آستانِ قدس کے خزانے کو لوٹا، قیمتی اشیاء اور تاریخی نوادرات چرا لئے۔
رات کے وقت اطراف کے مدارسِ علمیہ کے طلاب کو گرفتار کر کے گھنٹوں سردی اور بارش میں شہداء کے پاکیزہ جسدوں کے پاس کھڑا رکھا گیا۔
اس جنایت کی خبر اور جانی و مالی نقصان کی صحیح تعداد اس وقت سیکیورٹی خدشات اور عوامی غم و غصے کے خوف سے مکمل طور پر شائع نہیں کی گئی، تاہم ادیبِ ہروی اور دیگر مورخین نے اس واقعے کو روسی سلطنت کی جارحیت کی ناقابلِ تردید سند کے طور پر محفوظ کر دیا۔
بعد ازاں حرمِ مطہر امام رضا علیہ السلام کے گنبد اور تباہ شدہ حصوں کی مرمت بھاری لاگت سے کی گئی، اور آج بھی صحنِ عتیق کے ایوانِ طلا پر بعض گولیوں کے نشانات تاریخی ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔
یہ وہ سانحہ ہے جس پر ملک الشعراء بہار جیسے شعراء نے غیر ملکی افواج کی جارحیت کی مذمت میں لازوال قصیدے کہے ہیں۔




