حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی ایران ہجرت کے تہذیبی اور اسٹریٹجک پہلو

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی مدینہ منورہ سے ایران کی طرف تاریخی ہجرت اور مقدس شہر قم میں آپ کا قیام، محض ایک خاندانی ملاقات نہیں تھا۔
بنی ہاشم کے بزرگوں کے ہمراہ انجام پانے والا یہ حکمتِ عملی پر مبنی اقدام، عباسی خلافت کی انحرافی پالیسیوں کے خلاف ایک عظیم محاذ میں بدل گیا اور وسطی ایران میں تشیع کے علمی مراکز کو مستحکم کرنے کا باعث بنا۔
دوسری اور تیسری صدی ہجری میں مامون عباسی نے حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام پر ولایت عہدی مسلط کر کے شیعوں کے رابطہ نیٹ ورک کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی۔
اس سازش کے مقابلے میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی ہجرت نے دینی بیداری کا نیا باب کھولا۔
قدیم مستند مآخذ جیسے "تاریخ قم” از حسن بن محمد قمی اور "الحیاۃ السیاسیۃ للامام الرضا علیہ السلام” کے مطابق، اس سفر میں آپ کے ساتھ آپ کے بھائی ہارون، فضل، جعفر، قاسم اور درجنوں بھتیجوں پر مشتمل ایک بڑا قافلہ تھا۔ یہ ایک منظم تحریک تھی جس کا مقصد امام کے گرد قائم سیاسی حصار کو توڑنا تھا۔
جب قافلہ ساوہ کے قریب پہنچا تو عباسی افواج نے اس پر حملہ کر دیا، جس میں آپ کے کئی بھائی اور ساتھی شہید ہو گئے۔
تاریخی اسناد کے مطابق اس واقعہ کے بعد آپ کو لاحق ہونے والی اچانک بیماری، عباسی کارندوں کی جانب سے زہر دیے جانے کا نتیجہ تھی۔
اس صورتحال میں آپ نے قم کی مذہبی اہمیت کو جانتے ہوئے، کہ یہ اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے، قم جانے کا حکم دیا۔
201 ہجری قمری میں 23 ربیع الاول کو قم میں آپ کی آمد پر خاندانِ اشعری اور عوام نے آپ کا پرجوش استقبال کیا۔
قم میں آپ کا 17 روزہ قیام اور پھر اسی زہر کے اثر سے آپ کی شہادت نے اس سرزمین کو ہمیشہ کے لئے ایک علمی و روحانی مرکز بنا دیا۔




