دنیا

نیوزی لینڈ کے ووٹ سے اسلامی روایتِ اظہار تک

19 ستمبر 1893ء کو نیوزی لینڈ میں خواتین کو پارلیمانی انتخابات میں ووٹ دینے کا حق دیا گیا۔ اسے عموماً خواتین کے انتخابی حقوق کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل اور کسی خودمختار ملک کی جانب سے خواتین کو قومی سطح پر حقِ رائے دہی دینے کی اولین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ واقعہ جدید سیاسی تاریخ میں یقیناً اہم ہے، تاہم عورت کے حقوق اور حقِ اظہار کی بحث صرف انتخابی حقِ رائے دہی تک محدود نہیں۔
اسلامی مصادر میں تقریباً چودہ سو برس پہلے عورت کے سوال، فریاد، مشورے اور اظہارِ رائے کے متعدد شواہد ملتے ہیں۔ قرآن مجید ایک ایسی خاتون کی گفتگو کو محفوظ کرتا ہے جو اپنے شوہر کے معاملے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ  سے گفتگو اور استدلال کرتی ہیں: "قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا”۔ ایک عورت کی فریاد اور گفتگو کا قرآن کے متن میں محفوظ ہونا، اسلامی روایت میں عورت کی آواز کی اہمیت کی قابلِ ذکر مثال ہے۔
عہدِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ  میں خواتین نے دینی، معاشرتی اور خاندانی مسائل کے بارے میں براہِ راست سوالات کئے۔ اسلامی تاریخ میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا فکری و عملی کردار، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا خطبۂ فدک اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات بھی عورت کے مؤثر اظہار اور اجتماعی شعور کی نمایاں مثالوں کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔
البتہ یہ فرق ملحوظ رہنا چاہیے کہ جدید معنوں میں انتخابی حقِ رائے دہی اور رائے، سوال، مشورے یا اجتماعی معاملات میں اظہارِ خیال ایک ہی تاریخی تصور نہیں ہیں۔ اس لئے 1893ء کے واقعہ اور ابتدائی اسلامی معاشرے کو ایک ہی پیمانے پر رکھنا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا۔

اصل سوال کیا ہے؟

تاریخ کو صرف یہ گننے تک محدود نہیں ہونا چاہیے کہ عورت کو ووٹ کا حق کب ملا؛ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اسے اپنی بات کہنے، سوال کرنے، دلیل دینے اور سنے جانے کی جگہ کب اور کس صورت میں حاصل ہوئی۔
ووٹ سیاسی شرکت کی ایک صورت ہے، مگر عورت کی انسانی شناخت اور سماجی کردار اس سے کہیں وسیع ہے۔ اسلامی روایت میں عورت کے سوال، فریاد، علم اور اظہار کے محفوظ شواہد اس وسیع تر بحث کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
اس لئے تہذیبوں کی تاریخ کو محض مقابلے کے بجائے ان کے اپنے تاریخی تناظر میں سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ عورت کے ہاتھ میں ووٹ کی پرچی کب آئی؛ سوال یہ بھی ہے کہ اس کی آواز کو کب عزت ملی، اس کی رائے کو کب اہمیت دی گئی اور اسے معاشرے میں ایک باوقار انسانی شخصیت کے طور پر کس حد تک تسلیم کیا گیا۔
کیونکہ ووٹ سیاسی شرکت کا ایک حق ہے، مگر آواز انسانی وقار کا اظہار ہے۔ کسی بھی معاشرے کی حقیقی تہذیبی پختگی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں عورت کو محض ووٹر نہیں، بلکہ ایک صاحبِ فکر، صاحبِ رائے اور باوقار انسانی شخصیت کے طور پر سنا اور سمجھا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button