آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
پرانی قبر میں نئی میت دفن کرنے کے لئے یقین ہونا چاہیے کہ پہلی میت کے آثار باقی نہیں، ورنہ یہ نبشِ قبر ہے اور جائز نہیں: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست بدھ 4 ربیع الثانی 1448ھ کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں حسبِ معمول معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے قبر کو منہدم کرنے اور نبشِ قبر کے حکم کے بارے میں فرمایا: جو قبر کسی کی ذاتی ملکیت ہو، اسے دہائیوں گزرنے کے بعد بھی گرانا اور کھولنا جائز نہیں، اور اس میں کسی بھی قسم کا تصرف مالک یا اس کے ورثاء کی اجازت پر موقوف ہے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: لیکن جو عام قبرستان ذاتی ملکیت میں نہ ہوں، جب میت وہاں دفن کر دی جائے تو اس کی قبر کو کھولنا جائز نہیں ہے۔
آپ نے اس سوال پر کہ کتنے عرصہ بعد پرانی قبر میں نئی میت دفن کی جا سکتی ہے، فرمایا: اس سلسلہ میں کوئی خاص مدت بطور معیار مقرر نہیں کی جا سکتی، کیونکہ بعض اجسام دس سال سے بھی کم عرصہ میں ختم ہو جاتے ہیں اور ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا، جبکہ بعض صورتوں میں تیس سال بعد بھی میت کی باقیات موجود رہتی ہیں۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے تاکید فرمائی: لہٰذا جو میت برسوں پہلے دفن ہو چکی ہو، اس کی قبر میں نئی میت دفن کرنے کے لئے یہ احراز ہونا ضروری ہے کہ پہلی میت کی باقیات موجود نہیں ہیں، ورنہ یہ نبشِ قبر کے حکم میں آئے گا اور جائز نہیں ہے۔




