حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کا یومِ ولادت
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کا یومِ ولادت
آلِ محمد علیہم السلام کے عظیم محدث کے علمی، روحانی اور جہادی مقام پر ایک نظر
چار ربیع الثانی، حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر، خاندانِ عصمت و طہارت کے چاہنے والے اور محبّانِ اہلِ بیت اس جلیل القدر عالم، عظیم محدث اور اہلِ بیت علیہم السلام کے بلند مرتبہ یادگار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی بارگاہ کی زیارت کا ثواب حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کے برابر بتایا گیا ہے۔
اس مناسبت سے ہمارے ساتھی کی یہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
4 ربیع الثانی 173 ہجری قمری، مدینہ منورہ میں حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت کا دن ہے۔
آپ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور آپ کا شجرہ نسب چند واسطوں سے اس امامِ مجتبیٰ علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔
اس عظیم المرتبت ہستی نے اپنی بابرکت زندگی میں کئی معصوم اماموں، حضرت امام رضا، حضرت امام محمد تقی جواد اور حضرت امام علی نقی ہادی علیہم السلام کی خدمت میں حاضری کا شرف پایا اور اہلِ بیت علیہم السلام کے علوم کے چشمہ صافی سے فیضیاب ہوئے۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام نے طویل علمی جہاد، احادیث کی روایت اور نظریہ ولایت کے دفاع کے بعد، عباسی خلفاء کے بڑھتے ہوئے ظلم و ستم اور تعاقب کی بنا پر، آئمہ اطہار علیہم السلام کے حکم سے مدینہ کو خیر باد کہا اور ایران کی جانب ہجرت فرمائی۔
آپ نے شہرِ رَی میں قیام فرمایا اور انتہائی رازداری کے ساتھ نہایت مؤثر طریقے سے شیعوں کو منظم کرنے، شبہات کا ازالہ کرنے، اہلِ بیت علیہم السلام کی حقہ تعلیمات کی ترویج اور لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔
ایران میں آپ کی وسیع علمی، ثقافتی اور مذہبی خدمات حضرت امام علی نقی ہادی علیہ السلام کی خصوصی عنایت اور تائید کی حامل قرار پائیں، یہاں تک کہ امام علی نقی ہادی علیہ السلام نے آپ کو اپنا وکیل مقرر فرمایا اور لوگوں کو اپنے دینی مسائل کے حل کے لئے آپ کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت فرمائی۔
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی فضیلت اور بلند روحانی مقام کے بارے میں معصومین علیہم السلام سے بے شمار روایات منقول ہیں۔
ان میں سب سے مشہور روایت حضرت امام علی نقی ہادی علیہ السلام کا شہر رَی کے ایک شخص سے یہ فرمان ہے: "اگر تم اپنے شہر میں عبدالعظیم کی قبر کی زیارت کرو تو گویا تم نے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی ہے۔”
یہ حیرت انگیز ارشاد آپ کی روح کی عظمت، بارگاہِ الٰہی میں آپ کے قرب کے مقام اور آپ کی زیارت کے بے پایاں ثواب کی روشن دلیل ہے۔
روحانی مقام کے ساتھ ساتھ، حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام علم و حدیث کے آسمان کے درخشندہ ستارے بھی تھے۔ آپ نے "خطب امیرالمومنین علیہ السلام” جیسی گراں قدر کتاب تالیف فرمائی اور سینکڑوں معتبر روایات نقل کر کے شیعہ مکتب کے تحریری سرمایہ کو محفوظ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
آج آپ کا روضہ مبارک شہرِ رَی میں نورانیت کا مرکز، عاشقانِ آلِ محمد علیہم السلام کی زیارت گاہ اور ان شکستہ دلوں کی پناہ گاہ ہے جو دور و نزدیک سے حصولِ فیض اور ولایت کے آرمانوں سے تجدیدِ عہد کے لئے اس مقدس آستان پر حاضر ہوتے ہیں۔




