طالبان کی 70.7 ملین افغانی کی خفیہ مہم کا پردہ فاش

نفسیاتی جنگ، نسلی تفرقہ اور مخالفین کی کردار کشی کا انکشاف
طالبان کے محکمہ استخبارات کی "ریاست 015” سے متعلق خفیہ دستاویزات کے افشا ہونے سے انکشاف ہوا ہے کہ طالبان نے 7 کروڑ 7 لاکھ افغانی کے بھاری بجٹ سے سوشل میڈیا پر ایک منظم نفسیاتی جنگ شروع کر رکھی ہے، جس کا مقصد افواہیں پھیلانا، قومی تفرقہ پیدا کرنا، مخالفین کو بدنام کرنا اور ہمسایہ ممالک پر دباؤ ڈالنا ہے۔
ان خفیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان سینکڑوں جعلی اکاؤنٹس پر مشتمل ایک سائبر آرمی کے ذریعہ رائے عامہ پر قابو پانے، احتجاجی تحریکوں کو دبانے اور یہ جعلی تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تمام اقوام اور خواتین سمیت عوام طالبان حکومت کو قبول کر چکے ہیں۔
انڈیپنڈنٹ فارسی کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ منصوبہ "ریاست 015” کے سینئر حکام کے دستخط اور آپریشنل ڈپٹی کی منظوری سے تیار کیا گیا ہے اور اس کے 10 اسٹریٹجک اہداف ہیں۔
دستاویز کے مطابق 3 کروڑ سے زائد افغانی مخالف سیاسی شخصیات کی کردار کشی، مزاحمتی محاذوں میں پھوٹ ڈالنے اور ان میں نفوذ کے جھوٹے دعوؤں کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔
-2 کروڑ افغانی ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں طالبان مخالف پروپیگنڈے کو ناکام بنانے کے لئے رکھے گئے ہیں۔
2 کروڑ افغانی پاکستان کی فوج کے خلاف میڈیا مہم اور نسلی و قومی تعصب پر مبنی بیانیے کو فروغ دینے کے لئے مختص ہیں۔ باقی رقم ایران، تاجکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے خلاف تنقیدی مواد بنانے پر خرچ کی جائے گی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس بجٹ سے ایکس (ٹوئٹر) پر 300 نئے اکاؤنٹس بنائے جائیں گے اور 1500 سے زائد فعال اکاؤنٹس کو سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ اس سرمایہ کاری کا اصل مقصد تجزیہ نگاروں کو خریدنا، مختلف بین الاقوامی زبانوں میں جعلی صحافتی نیٹ ورکس بنانا اور اپنی اندرونی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔
دستاویزات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ طالبان کے اعلیٰ پروپیگنڈہ حکام ان 1500 اکاؤنٹس کو براہ راست کنٹرول کر رہے ہیں۔ یہ اکاؤنٹس اکثر خواتین کے ناموں سے یا پنجشیر سے تعلق ظاہر کر کے یہ جعلی تاثر دیتے ہیں کہ خواتین اور عام عوام طالبان کے حامی ہیں۔
اس کے علاوہ طالبان اپنے مقاصد کے لئے ملک کے بعض اندرونی میڈیا، یوٹیوب چینلز اور ٹی وی چینلز کو بھی پردے کے پیچھے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ انکشاف ثابت کرتا ہے کہ طالبان زمینی سطح پر جبر اور سختی کے ساتھ ساتھ اخلاقی طور پر بدنام کرنے اور نفسیاتی جنگ کو بھی اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔




