تاریخ اسلام

قیامِ توابین؛ یکم ربیع الثانی 65 ہجری کو کوفہ سے تحریک کا آغاز

یکم ربیع الثانی 65 ہجری کو سلیمان بن صرد خزاعی اور شیعہ کے بعض سرکردہ افراد کی قیادت میں کوفہ میں قیامِ توابین منظم ہوا اور اموی حکومت کے خلاف باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا گیا۔

یہ تاریخی تحریک واقعۂ عاشورا کے بعد امام حسین علیہ السلام کی نصرت نہ کر سکنے پر شدید ندامت و پشیمانی کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اسے شہادتِ امام حسین علیہ السلام کے بعد کوفہ کے شیعوں کے اہم ترین ردِعمل میں شمار کیا جاتا ہے۔ تحریک کا بنیادی مقصد شہدائے کربلا کے خون کا انتقام لینا اور فداکاری و ایثار کے ذریعے عہد شکنی کے گناہ کا ازالہ کرنا تھا۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کو بیان کیا ہے، آئیے دیکھتے ہیں:

قیامِ توابین کو واقعۂ عاشورا کے بعد کوفہ کے معاشرے کا پہلا براہِ راست ردِعمل اور عملی اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔

61 ہجری میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی شہادت کے بعد کوفہ کے شیعہ رہنماؤں کے دل و دماغ میں گہری ندامت اور پشیمانی پیدا ہوئی۔

جن لوگوں نے متعدد خطوط کے ذریعہ امام حسین علیہ السلام کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی، وہ عبیداللہ بن زیاد کی فوج کے ساتھ فیصلہ کن مقابلے کے وقت حکومتی دباؤ، دھمکیوں اور سخت حفاظتی اقدامات سے متاثر ہو کر تذبذب کا شکار ہوگئے اور فرزندِ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت سے محروم رہے۔

ان کی یہ پسپائی بالآخر اس عظیم سانحہ پر منتج ہوئی جس نے عالمِ اسلام کے بیدار ضمیر کو شدید جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ، یزید بن معاویہ کی موت کے بعد جب جبر و اختناق کی فضا نسبتاً کم ہوئی تو کوفہ کے شیعوں کو اپنی خفیہ سرگرمیوں اور تنظیمی روابط کو کھل کر سامنے لانے کا موقع ملا۔

اسی دوران شیعہ کے پانچ سرکردہ افراد نے جلیل القدر صحابی سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں اپنی جدوجہد کی منصوبہ بندی کے لیے متعدد اجلاس منعقد کئے۔

ان نشستوں میں یہ طے کیا گیا کہ عہد شکنی کی ندامت کا ازالہ کرنے کا واحد راستہ شہدائے کربلا کے خون کا انتقام لینے اور ان کے قاتلوں کے خلاف براہِ راست جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنا ہے۔

توابین کی تحریک کا باقاعدہ آغاز یکم ربیع الثانی 65 ہجری کو ہوا۔

قیام میں شریک افراد نخیلہ نامی مقام پر جمع ہوئے اور تجدیدِ عہد کے بعد کربلا کی جانب روانہ ہوئے تاکہ امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مطہر پر گریہ و زاری اور استغفار کریں۔

کربلا پہنچ کر انہوں نے شہدائے کربلا کے مزارات پر عزاداری کی اور اظہارِ عقیدت کے بعد شام کی جانب روانہ ہوئے تاکہ عین الوردة کے مقام پر عبیداللہ بن زیاد کی فوج سے مقابلہ کریں۔

اگرچہ یہ قیام بالآخر فوجی شکست اور اس کے بیشتر قائدین کی شہادت پر منتج ہوا، تاہم اس نے ایثار و قربانی کی ایک مثال قائم کی اور بعد میں اموی حکومت کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کے لیے ایک اہم محرک فراہم کیا۔

مزید برآں، توابین کی توبہ، عزم اور جان نثاری نے کوفہ کے معاشرے میں مزاحمت کی ایک نئی روح پیدا کی اور بعد کی تحریکوں، بالخصوص مختار ثقفی کے قیام، کے لیے راہ ہموار کی۔

قیامِ توابین میں شریک افراد کے جذبۂ شہادت نے یہ ظاہر کیا کہ امام حسین علیہ السلام کی نصرت میں کوتاہی پر ہونے والی پشیمانی ظلم کے خلاف جدوجہد اور قربانی کے لیے ایک مضبوط محرک بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button