دنیا

برکس کے سربراہان کا مشرقِ وسطیٰ میں بحران کے پھیلاؤ پر انتباہ

نئی دہلی میں برکس کے رکن ممالک کے سربراہان کا اجلاس ایک مشترکہ اعلامیے کے اجرا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

اس اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور عدمِ استحکام کے بین الاقوامی سلامتی، عالمی تجارت، سپلائی چین اور توانائی کی منڈی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

خبر رساں ادارہ ریڈیو فردا کے مطابق، برکس کے سربراہان نے اپنے اختتامی اعلامیہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری بنیادی ڈھانچے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی معاہدے کے تحت آنے والی جوہری تنصیبات پر فوجی حملوں کی مذمت کی اور تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی اپنے خطاب میں زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا جاری رہنا عالمی برادری کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے اور علاقائی تنازعات کا حل صرف مذاکرات، مشاورت اور سفارت کاری کے ذریعہ تلاش کیا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ، برکس کے رکن ممالک نے یک طرفہ محصولات اور غیر محصولات پر مبنی اقدامات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا، جن کے باعث آزاد بین الاقوامی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔

اس دو روزہ اجلاس کے موقع پر شریک ممالک کے رہنماؤں کے درمیان بحران پر قابو پانے کے طریقوں کے حوالے سے متعدد سفارتی مشاورت بھی ہوئی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button