یورپ

برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی اور معاشی اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ

برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی اور معاشی اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ

برطانیہ کی مسلم برادری کو اگرچہ انتہا پسند عناصر کی جانب سے بڑھتی ہوئی ہراسانی اور مخالفت کی لہروں کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود یہ برادری ملک کے دیگر مذہبی گروہوں کے مقابلے میں آبادی کے اعتبار سے سب سے زیادہ متحرک اور تیزی سے ترقی کرنے والی برادری بن چکی ہے۔

مسلمانوں نے سیاسی اور سماجی میدانوں میں فعال کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ لندن کو اسلامی معیشت کے اہم مراکز میں شامل کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں برطانیہ کی عوامی زندگی میں ان کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے برطانیہ کے ادارۂ قومی شماریات کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پانچ سال کے عرصے میں ملک میں مسلمانوں کی آبادی میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ شہریوں کے اسلام قبول کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

اسی طرح الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی مسلمانوں نے پارلیمنٹ میں مسلم نمائندوں کی موجودگی اور شریعت کے مطابق مالیاتی خدمات کی فراہمی جیسے اہم میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود اسلاموفوبیا، نفرت پر مبنی جرائم اور دائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی بدستور ایک سنگین چیلنج ہے اور مسلم خاندانوں کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button