علم اور ٹیکنالوجی

نئی نسل سے ربط کا چیلنج: بولنے سے زیادہ سننے کی ضرورت

نئی نسل سے ربط کا چیلنج: بولنے سے زیادہ سننے کی ضرورت

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلی اور سوشل میڈیا کے پھیلاؤ نے نئی نسل کے فکری نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

اس نئے ماحول میں روایتی اور حکم پر مبنی طریقے اب کارگر نہیں، کیونکہ نوجوان گہری سمجھ اور منطقی دلیل کے متلاشی ہیں۔

اسلامی معارف کے محققین کے جائزوں اور تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس چیلنج سے نکلنے کا راستہ رابطے کی زبان میں تبدیلی، فعال انداز میں سننا اور دینی مفاہیم کو زمانے کے تقاضوں سے جوڑنا ہے۔

نوجوانوں کی آج کی دنیا ماضی سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔

مجازی فضا میں معلومات کی مسلسل روانی نے انہیں مختلف بیانیوں سے دوچار کر دیا ہے۔

ایسے ماحول میں نئی نسل کا سوال اٹھانا "دین سے بیزاری” کی علامت نہیں، بلکہ اپنی شناخت تلاش کرنے کا ایک فطری حصہ ہے۔ گھر اور اسکول میں مناسب جواب نہ ملنے کی وجہ سے نوجوان جوابات کی تلاش میں سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں۔

تربیتی مفاہیم کی منتقلی کے لئے آمرانہ لہجے سے نکل کر قائل کرنے والی گفتگو کی طرف آنا ضروری ہے۔

والدین کے قول و فعل میں تضاد تربیتی اثر کو کم کر دیتا ہے۔

اسکولوں کو بھی حافظہ پر مبنی تعلیم سے ہٹ کر دینی مفاہیم کو آج کے عملی مسائل جیسے اخلاق، مستقبل کے روزگار اور ڈیجیٹل خواندگی سے جوڑنا چاہیے۔

اس کے علاوہ اس نئے ماحول کا سامنا کرنے کے لئے میڈیا کے ڈھانچوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ فکری ابہامات کے سامنے بے عملی اور روایتی تبلیغی طریقوں پر اکتفا کرنا نسلوں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دے گا۔

مربیوں اور ثقافتی منصوبہ سازوں کو چاہیے کہ نوجوانوں کے لئے منصفانہ تنقید، آزاد تبادلہ خیال اور نظریات کو پرکھنے کا موقع فراہم کریں تاکہ دینی تربیت کا عمل مکمل آگاہی کے ساتھ انجام پائے۔

مجازی فضا میں مؤثر رابطے کے لئے مختصر ویڈیوز اور کہانی گوئی جیسے نئے انداز کو سمجھنا ضروری ہے۔

اس کا مطلب اقدار کو بدلنا نہیں، بلکہ کلی گوئی کو چھوڑ کر نوجوانوں کے حقیقی مسائل جیسے بے چینی اور زندگی کے معنی جیسے موضوعات کا ہمدردی کے ساتھ سامنا کرنا ہے۔

گفتگو پر مبنی یہ نقطہ نظر اسلامی تعلیمات میں جڑ رکھتا ہے۔

قرآن کریم سورہ نحل کی آیت 125 میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کو حکمت آمیز دعوت اور عمدہ گفتگو کا حکم دیتا ہے: "ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ”

"حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔”

اسی طرح امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے نسلی فرق کو سمجھنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا: "لَا تُقَسِّروا اَوْلادَکُم عَلی آدابِکُم، فَاِنَّهُم مَخلوقونَ لِزَمانٍ غَیرِ زَمانِکُم”

"اپنے آداب اپنی اولاد پر مسلط نہ کرو، کیونکہ وہ تمہارے زمانے کے علاوہ کسی اور زمانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔”

آخر میں، یک طرفہ سوچ سے نکل کر فکری اقناع اور باہمی گفتگو کی جانب بڑھنا ہی ٹیکنالوجی کے دور میں تربیتی پیغامات کو مؤثر بنانے کا واحد راستہ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button