حوزہ علمیہ خاتم النبیین کی محاصرے اور تخلیہ کے طالبان کے حکم کے خلاف کابل میں شیعوں کا احتجاج

افغانستان کے شیعوں اور طالبان حکومت کے درمیان کابل میں شیعہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دینی و علمی مرکز حوزہ علمیہ خاتم النبیین کے مستقبل کے حوالے سے کشیدگی ایک نئے بحرانی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
ہفتہ کے روز سینکڑوں شیعہ عوام اور طلبہ کا حکام کے یک طرفہ فیصلوں کے خلاف احتجاجی اجتماع، ملک میں مذہبی آزادیوں اور شیعہ مذہبی و علمی اداروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے گہری تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
افغانستان کی خبر رساں ایجنسی اطلاعات روز کے مطابق طالبان کی فوجی فورسز نے کابل کے علاقے دارالامان میں واقع حوزہ علمیہ خاتم النبیین کے احاطے میں داخل ہوکر اسے گھیرے میں لے لیا اور پورے کمپلیکس کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ اقدام طالبان کے وزیرِ عدلیہ کے براہِ راست حکم پر کیا گیا ہے۔ بعض علماء اور روحانی شخصیات کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ ادارہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ہے اور جس زمین پر یہ قائم ہے وہ غصب شدہ ہے؛ تاہم حوزہ کے منتظمین نے شرعی اور قانونی دستاویزات پیش کرکے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔
شیعہ مذہبی و علمی اداروں پر یہ دباؤ ماہِ جولائی سے شروع ہوا، جب مسجد اور کتب خانے کو سیل کرنے کے ساتھ شبکہ تمدن کی سرگرمیاں بھی روک دی گئیں۔ اس کے بعد دانش گاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انتظامیہ میں بھی جبری طور پر نئی قیادت مقرر کی گئی۔
دوسری جانب شیعہ طلبہ گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے کھلے آسمان تلے اپنی تعلیمی کلاسیں منعقد کرنے پر مجبور ہیں۔
شورائے علمائے شیعہ افغانستان نے طالبان کے ان امتیازی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے خلاف دوہرے معیار پر مبنی پالیسی ختم کرنے اور شیعہ مذہبی و علمی اداروں کو آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے دینے کا مطالبہ کیا ہے۔




