نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اسلامی مجلسِ آسٹریا کی قانونی نشست

14 سال سے کم عمر محجبہ طالبات کے تحفظ کے طریقۂ کار پر غور
نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی طالبات کے اسلامی حجاب کے استعمال پر پابندی کے قانون کے نفاذ سے پیدا ہونے والے قانونی اور سماجی مسائل نے آسٹریا کی مسلم برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسی سلسلہ میں اسلامی مجلسِ آسٹریا نے ویانا کے اسلامی مرکز میں ایک آگاہی نشست منعقد کرکے نئے قانون کے علمی و عملی پہلوؤں اور ان پابندیوں کے مقابلے میں خاندانوں کی جانب سے واضح اور باشعور طرزِ عمل اختیار کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔
’’مسلمانان سراسر جہان‘‘ نامی خبر رساں ویب سائٹ کے مطابق، اس نشست میں قانونِ تعلیمِ مدارس کی دفعہ 43a کی وضاحت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس قانون کے تحت یکم ستمبر 2026 سے آسٹریا کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسلامی مجلس کے ذمہ داران نے نشست میں بچوں کے مفاد اور مصلحت کو مقدم رکھنے اور کشیدگی پیدا کرنے والے اقدامات سے گریز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امتیازی سلوک، طالبات کو کسی مخصوص شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانے اور تعلیم سے محروم کرنے کی صورت میں ان کے قانونی حقوق بدستور محفوظ ہیں۔
اس کے علاوہ اس معاملے کو آسٹریا کی آئینی عدالت میں اٹھانے اور متاثرہ خاندانوں کو قانونی مشاورت فراہم کرنے کو بھی اسلامی مجلس کے آئندہ اقدامات میں شامل کیا گیا ہے۔




