اسلامی دنیا

23 ربیع الاول: کریمہ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی قم آمد

23 ربیع الاول 201 ہجری قم کی تاریخ کا وہ درخشاں دن ہے جب کریمہ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا نے اس سرزمین کو اپنے قدموں سے شرف بخشا۔ آپ مدینہ سے اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام کی ملاقات کے لئے نکلی تھیں، ساوہ میں قافلے پر حملے، بھائیوں اور بھتیجوں کی شہادت کے صدمے کے بعد بیمار ہو کر قم تشریف لائیں، جہاں جناب موسیٰ بن خزرج اشعری رضوان اللہ تعالی علیہ نے میزبانی کی اور 17 دن بعد آپ نے اسی شہر میں وصال فرمایا۔

آپ کی آمد قم کی روحانی تاریخ کا سنگ میل ضرور ہے، لیکن قم کی علمی بنیاد اس سے بہت پہلے رکھ دی گئی تھی۔ زمانہ ائمہ علیہم السلام ہی میں قم حدیث و فقہ کا مرکز بن چکا تھا۔ امام صادق علیہ السلام کے صحابی جناب عیسیٰ بن عبداللہ اشعری قمی رضوان اللہ تعالی علیہ اور آپ کے بعد جناب زکریا بن آدم قمی رضوان اللہ تعالی علیہ جیسے جلیل القدر فقیہ و راوی اس بات کی دلیل ہیں کہ قم صرف محبت اہل بیت کا شہر نہیں، بلکہ علوم اہل بیت علیہم السلام کے فروغ کا فعال مرکز تھا۔

یہی وہ علمی تسلسل ہے جسے جدید دور میں آیت اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری یزدی رضوان اللہ تعالی علیہ نے 24 رجب 1340ھ / 1922ء میں حوزہ علمیہ قم کی تجدید کی صورت میں ایک نئے عہد میں داخل کیا۔ پھر آیۃ اللہ العظمی بروجردی رضوان اللہ تعالی علیہ اور آیۃ اللہ العظمی مرعشی نجفی رضوان اللہ تعالی علیہ جیسے فقہاء نے اسے وسعت دی۔

صدام ملعون کے دور میں نجف پر جو سختیاں آئیں، گرفتاریاں اور جلاوتنیاں ہوئیں، اس سے علماء کی ہجرت ہوئی اور قم کی عالمی مرکزیت میں وسعت آئی، عراق سے سلطان المولفین آیۃ اللہ العظمی سید محمد حسینی شیرازی رضوان اللہ تعالی علیہ اور دیگر علماء، فقہاء اور طلاب قم تشریف لے آئے، لیکن قم کی علمی حیثیت کو صرف اس کا نتیجہ سمجھنا تاریخی ناانصافی ہے، اس کی جڑیں عہد ائمہ معصومین علیہم السلام تک ملحق ہیں۔

آج چیلنج سیاسی ہی نہیں، فکری اور ابلاغی بھی ہیں۔ الحاد، تشکیک، فیک نیوز اور سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا نئی نسل کے سامنے نئے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ ایسے میں صرف ماضی کی عظمت کافی نہیں۔

23 ربیع الاول ہمیں عہد کی تجدید کی دعوت دیتا ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے لئے "عارفاً بحقہا” کی شرط رکھی۔ آج ہمیں اسی معرفت کی ضرورت ہے۔

ہمیں ایسی تشیع چاہیے جو محبت کو علم میں، علم کو اخلاق میں، اور اخلاق کو خدمت و عدالت میں بدلے۔ ہمیں ایسے عالم چاہئیں جو سوال سے نہ گھبرائیں، جو منبر سے ضمیر بیدار کریں اور نئی نسل کو دلیل و حکمت سے جواب دیں۔

قم کا حرم ولایت کی علامت ہے، قم کا حوزہ معرفت کا مرکز، اور نجف کی روایت استقامت کی علامت۔ تاریخ نے ہمیں چراغ دیے ہیں، اب انہیں روشن رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button