شیعہ مرجعیت

اگر حاکم کافر ہو مگر عادل ہو تو اس کا کفر اس کی اپنی ذات سے متعلق ہے، لیکن اس کا عدل مومنین کو نصیب ہوگا، لیکن اگر مسلمان حاکم، ظالم ہو تو اس کا دین مومنین کے لئے سودمند نہیں ہے، لیکن اس کا ظلم مومنین کو اذیت دیتا ہے : آیۃ اللہ العظمی شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست، جمعرات 20 ربیع الاول سال 1448 کو منعقد ہوئی۔

اس نشست میں، پچھلی نشستوں کی طرح، معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل کے بارے میں سوالات کا جواب دیا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے کافر عادل حاکم اور مسلمان ظالم حاکم کی حکومت کے موازنے کے سلسلے میں فرمایا: اللہ تعالیٰ نہ کافروں کی سلطنت کو پسند کرتا ہے اور نہ ظالموں کی سلطنت کو، چاہے وہ مومنین پر ہو یا غیر مومنین پر۔

معظم لہ نے مزید فرمایا: البتہ ظالموں کی سلطنت بدتر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کافروں کی سلطنت بہتر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ دونوں کو ہی ناپسند کرتا ہے۔

انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا: سید بن طاووس رضوان اللہ تعالی علیہ سے تاکید کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ اگر کافر حاکم، عادل ہو تو اس کا کفر اس کی اپنی ذات سے متعلق ہے، لیکن اس کا عدل مومنین کو نصیب ہوگا، لیکن اگر مسلمان حاکم، ظالم ہو تو اس کا دین مومنین کے لئے سودمند نہیں ہے، لیکن اس کا ظلم مومنین کو اذیت پہنچاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button