افغانستان میں کوچی ھا قبائل اور ہزارہ باشندوں کے درمیان تاریخی تنازع برقرار

شیعہ آبادی کے حقوق اور پائیدار امن کے قیام میں قانونی چیلنجز
افغانستان کے مرکزی علاقوں میں کوچی قبائل اور مقامی کسانوں کے درمیان دیرینہ قانونی اور معاشی تنازع اب بھی ملک کے پیچیدہ سماجی اور سکیورٹی مسائل میں شمار ہوتا ہے۔
مویشیوں کے زرعی زمینوں میں داخل ہونے، چراگاہوں کے حقوق اور زمینوں کی تاریخی ملکیت کے دعوؤں سے پیدا ہونے والی کشیدگی نے مقامی شیعہ اور ہزارہ برادریوں کے معاشی وسائل اور ذہنی سکون کو متاثر کیا ہے اور انہیں سنگین نقصانات اور خطرات کا سامنا ہے۔
اطلاعات روز کے مطابق، حکومت کی جانب سے متعدد کمیشن قائم کیے جانے کے باوجود بامیان، غزنی، دایکندی اور میدان وردک جیسے صوبوں میں ناخوشگوار واقعات، بے دخلی کے معاملات اور زمین و وسائل کے حوالے سے موسمی تنازعات بدستور جاری ہیں۔
افغانستان کے ممتاز شیعہ علماء، جن میں شورائے علمائے شیعہ کے ارکان بھی شامل ہیں، نے کھیتوں کی تباہی اور مقامی باشندوں کے قانونی حقوق و تحفظ کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس سو سالہ تنازع کے خاتمے کے لئے شریعت کے نفاذ، ایک شفاف عدالتی نظام کے قیام اور حکومت کی جانب سے غیر جانب دارانہ انداز میں معاملات کی تحقیقات اور فیصلوں کا مطالبہ کیا ہے۔




