سعودی عرب

یومِ شہادتِ شیخ نمر باقر النمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

21 ربیع الاول؛ یومِ شہادتِ شیخ نمر باقر النمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

ایک شہادت، ایک صدا اور کربلا کے پیروکار کا نوحہ

تاریخ میں کچھ شہادتیں صرف ایک انسان کی موت نہیں ہوتیں؛ وہ وقت کے سینے پر لکھی ہوئی ایسی تحریر بن جاتی ہیں جسے صدیوں کی گرد بھی مٹا نہیں سکتی۔ شہیدِ حق، فقیہِ مجاہد آیۃ اللہ شیخ نمر باقر النمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت بھی ایسی ہی ایک مظلومانہ داستان ہے؛ ایک عالمِ دین جس نے خاموشی کے بجائے حق گوئی کو، مصلحت کے بجائے عدل کو اور خوف کے بجائے کلمۂ حق کو اپنا راستہ بنایا۔

21 ربیع الاول 1437ھ، مطابق 2 جنوری 2016ء، سعودی عرب میں شیخ نمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو دیگر افراد کے ساتھ سزائے موت دے دی گئی۔ یوں ایک آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، مگر تاریخ گواہ ہے کہ شہید کا خون آواز کو ختم نہیں کرتا، اسے مزید بلند کردیتا ہے۔

شہید شیخ نمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی اور جدوجہد میں مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی وہی روح نمایاں تھی جو کربلا کے میدان میں حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام نے اپنے خون سے رقم فرمائی تھی: ظلم کے سامنے سر نہ جھکانا، حق کو حق کہنا، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا اور دین کو صرف عبادت گاہ تک محدود نہ سمجھنا۔

کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے یہ درس دیا کہ جب باطل اقتدار حق کو دبانے لگے تو خاموشی بھی ایک سوال بن جاتی ہے۔ شیخ نمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اسی حسینی درس کو اپنے عہد کی زبان میں بیان کیا۔ ان کے ہاں منبر صرف وعظ کی جگہ نہیں تھا، بلکہ مظلوم کی ترجمانی کا مقام بھی تھا؛ اور عالمِ دین صرف مسائل بتانے والا نہیں، بلکہ ظلم کے مقابلے میں حق کی گواہی دینے والا بھی تھا۔

پھر وہ لمحہ آیا جب تلوار نے ایک عالم کا جسم جدا کردیا، مگر اس کے کلمۂ حق کو جدا نہ کرسکی۔ گردن کٹ گئی، مگر حق کے سامنے جھکنے سے انکار باقی رہا۔ لب خاموش ہوگئے، مگر شہادت کی صدا باقی رہی۔

ان کی شہادت کے بعد سعودی عرب نے معاشی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں کئی بڑی تبدیلیاں دیکھیں۔ وژن 2030ء کے تحت جدید کاری، سرمایہ کاری، سیاحت، تفریح، کھیل اور خواتین کی عوامی و معاشی شرکت کو فروغ دیا گیا۔ بظاہر ایک نیا سعودی عرب تشکیل پانے لگا؛ مگر شہید نمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت سے اٹھنے والا بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہے:

کیا عمارتیں بلند ہونے کے ساتھ انسان کی فکر اور آزادی بھی بلند ہوئی؟

کیا معاشی ترقی کے ساتھ عدل نے بھی وسعت پائی؟

کیا جدیدیت کے ساتھ مذہبی آزادی، حقِ اظہار، اختلافِ رائے اور انسانی کرامت کو بھی وہی مقام ملا جس کا وہ حق رکھتے ہیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں شہید نمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی یاد محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ سوال بن جاتی ہے۔

مکتبِ امام حسین علیہ السلام میں شہادت اختتام نہیں؛ پیغام کی ابتدا ہے۔ کربلا کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دربارِ ظلم میں کھڑے ہوکر بتایا کہ شہید کا خون بے زبان نہیں ہوتا۔ آج بھی ہر وہ شہادت جو حق کے لئے دی جائے، اپنے لہو سے زمانے کے ضمیر کو مخاطب کرتی ہے۔

شیخ نمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کو یاد کرنا دراصل اس حسینی عہد کی تجدید ہے کہ ہم ظلم کو ظلم کہیں گے، حق کو حق کہیں گے، مظلوم کی حمایت کریں گے، اور خوف کو اپنے ایمان پر غالب نہیں آنے دیں گے۔

اے شہیدِ راہِ حق!
تمہیں تختۂ دار پر خاموش کیا گیا، مگر تمہاری صدا آج بھی زندہ ہے۔ تمہارا جسم مٹی کے سپرد ہوا، مگر تمہارا پیغام دلوں میں باقی ہے۔ تمہاری زبان روک دی گئی، مگر تمہارے خون نے وہ تحریر لکھ دی جسے وقت مٹا نہیں سکتا۔

کربلا کے فرزندوں کا یہی ورثہ ہے کہ سر کٹ سکتا ہے، مگر باطل کے سامنے جھک نہیں سکتا۔

سلام ہو اس شہید پر جس نے حق کی خاطر جان دی؛
سلام ہو اس عالم و فقیہ پر جس نے مظلوم کی آواز بننا قبول کیا؛ اور سلام ہو اس لہو پر جو آج بھی اہلِ حق کے دلوں میں یہ صدا بلند کرتا ہے:

اللہ تعالیٰ شہیدِ راہِ حق آیۃ اللہ شیخ نمر باقر النمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے درجات بلند فرمائے، انہیں محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے جوار میں مقام عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے پیغامِ حق، عدل، آزادی اور استقامت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button