
افغانستان میں دو دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ اور غیر ملکی فوجی موجودگی کے انسانی اثرات کے بارے میں بین الاقوامی اور میدانی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک کے عام شہری اور بے دفاع طبقات مسلح تنازعات اور جنگی جرائم کے سب سے بڑے متاثرین رہے ہیں۔
افغان مسلم معاشرے کو پہنچنے والے ناقابلِ تلافی نقصانات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بے گناہ انسانوں کی جانوں سے بے اعتنائی کی ہولناک تصویر پیش کرتے ہیں۔
خبر ٹیلی گرام چینل "خبر تازه افغانستان” کے مطابق، افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنوری 2009ء سے اگست 2021ء تک تقریباً 40 ہزار شہری جاں بحق جبکہ 77 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنگ میں شامل تمام فریقوں نے کسی نہ کسی صورت میں عام شہریوں کو نقصان پہنچایا۔
یہ تحقیق متاثرین، سول سوسائٹی کے اداروں اور طالبان کے عہدیداروں سے کئے گئے انٹرویوز کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اس میں گزشتہ 20 برس کے دوران امریکی قابض افواج، سابق افغان حکومت، طالبان اور داعش جیسے شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں اور عام شہریوں پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں جنگ کے دوران ہونے والی انسانی تباہی کے تناظر میں متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور تنازع کے ذمہ دار عناصر کے احتساب اور جواب دہی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔




